جرمنی کی حکومت نے ملک کے خفیہ اداروں کو سائبر حملوں اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے وسیع تر عملی اور ہیکنگ کے اختیارات دینے کے قانون کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ نئے قانون کے تحت اداروں کو حملہ آوروں کے آئی ٹی سسٹمز میں داخل ہونے، ڈیٹا نقل یا حذف کرنے اور غیر ملکی ریاستی مہمات میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل آلات کو غیر فعال کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
کابینہ کی جانب سے بدھ کو منظور کیے گئے مسودے کے مطابق جرمنی کی وفاقی انٹیلی جنس سروس بی این ڈی اور داخلی سلامتی کے ادارے بی ایف وی کو پہلی مرتبہ ایسے عملی اختیارات دیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرینڈٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد جرمنی کے سکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور انٹیلیجنس اداروں کو مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہے۔
German cabinet approves plan to grant more powers to spy services https://t.co/XBLftcSqNM https://t.co/XBLftcSqNM
— Reuters (@Reuters) August 12, 2026
مجوزہ قانون کے تحت خفیہ ادارے حملہ آوروں کے کمپیوٹر اور دیگر آئی ٹی نظام میں خفیہ طور پر داخل ہوکر ڈیٹا حاصل، نقل یا حذف کرسکیں گے، جبکہ بیرونی ریاستوں کی جانب سے سائبر مہمات میں استعمال ہونے والے آلات کو بھی ناکارہ بنایا جاسکے گا۔
اداروں کو ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مالیاتی اداروں اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز سے معلومات حاصل کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے معائنوں اور جرمانوں کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جرمنی نے خفیہ اداروں کو وسیع اختیارات دینے کا فیصلہ کرلیا، کن ممالک سے خطرہ ہے؟
جرمن حکام کے مطابق ملک کو روس اور ایران سمیت بعض ممالک کی جانب سے جاسوسی، تخریب کاری، سائبر حملوں اور دیگر ہائبرڈ خطرات کا شدید سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جرمنی کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے صرف اتحادی ممالک کی انٹیلیجنس معلومات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
تاہم خفیہ اداروں کو وسیع اختیارات دینے کے منصوبے پر شہری آزادیوں کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔ مجوزہ قانون کو حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ سے منظور ہونا باقی ہے، جبکہ اداروں کی نگرانی کے لیے ایک آزاد نگران کونسل کے ذریعے مرکزی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔













