برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض بھارتی پروفیشنل نیٹ ورکس اپنی کمیونٹی کے افراد کو ملازمتیں دلوانے کے لیے غیر منصفانہ طریقے استعمال کرتے ہیں، جس پر امریکا کے ٹیک سیکٹر میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان نے امریکی فوج کے چھوڑے گئے 5 لاکھ ہتھیار دہشتگرد گروپوں کو فروخت کر دیے، برطانوی میڈیا کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق بعض بھارتی ملازمین خفیہ انٹرویو سوالات اور بھرتی کے طریقہ کار سے متعلق معلومات آپس میں شیئر کرتے ہیں، جس سے دیگر امیدواروں پر انہیں برتری حاصل ہو جاتی ہے۔
برطانوی میڈیا نے گوگل کے سابق کنٹریکٹر کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ٹیک ورکرز کی ملازمتیں بتدریج بھارت منتقل ہونے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
اسٹیون ایجنگٹن کے مطابق بعض مواقع پر مقامی ملازمین کو اپنی جگہ آنے والے نئے ملازمین کو تربیت دینے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب کسی بھارتی ملازم کی بھرتی ہوتی ہے تو وہ انٹرویو سے متعلق خفیہ سوالات اور معلومات دوسرے بھارتی امیدواروں تک بھی پہنچاتا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانوی میڈیا گروپ نے شہزادہ ہیری سے معافی کیوں مانگی؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان دعوؤں کے بعد امریکا میں امیگریشن پالیسی، خصوصاً ایچ ون بی ویزا پروگرام، اور ٹیک کمپنیوں میں غیر ملکی بھرتیوں کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔














