مخلوط حکومت میں مشاورت کے بغیر 28ویں آئینی ترمیم ممکن نہیں، فی الحال ایسا کچھ نہیں ہورہا، وزیر قانون

ہفتہ 16 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اس وقت 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت یا آثار نظر نہیں آ رہے۔

مزید پڑھیں: 18ویں آئینی ترمیم رول بیک ہونی چاہییے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت پہلے اپنے اتحادیوں سے مشاورت کرےگی، ان کی جانب سے مثبت اشارے ملنے کے بعد ہی آگے کی رہنمائی اور بات چیت ہوگی۔

انہوں نے واضح کیاکہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی آئینی ترمیم کو مشاورت کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا، خصوصاً جب حکومت مخلوط ہے، اس لیے تمام فیصلوں میں اتفاق رائے ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ ماضی میں بھی 2009 میں مختلف جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے سے معاملات طے پائے تھے، اور اسی طرز پر آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر قومی مکالمہ ہوتا ہے تو اس کے ذریعے بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق اس وقت صورتحال واضح نہیں ہے، کیونکہ کسی بھی ترمیم کے خدوخال اس کے مسودے کے بعد ہی سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کو درپیش بعض مسائل اور مختلف آئینی و انتظامی امور پر سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں بھی بنیادی توجہ بڑھتی ہوئی آبادی پر ہے، جبکہ سرائیکی صوبے سمیت مختلف علاقائی و صوبائی مطالبات بھی زیر غور آتے رہتے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کی بات کرتے ہیں اور وزیراعظم نے اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔

مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم میں کی گئی غلطیوں کو درست کیا جائے، مولانا فضل الرحمان کی تجویز

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور صدر، جو مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جب ایک ساتھ بیٹھیں گے تو مشاورت کے عمل میں مزید پیش رفت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘