برونائی کے سلطان حسنال بولکیہ نے اپنی بہو پینگیران رابعۃ العدویہ سے تمام شاہی خطابات اور اعزازات فوری طور پر واپس لینے کا باضابطہ فرمان جاری کردیا ہے۔ پینگیران رابعۃ العدویہ شہزادہ عبد المالک کی اہلیہ ہیں، جو تخت کے جانشینوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔
فیصلے کی وجہ کیا بنی؟
دربار کے اعلیٰ عہدیدار کے دفتر کی جانب سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق پینگیران رابعۃ العدویہ کا طرز عمل شاہی خاندان کے رکن کی اہلیہ کے شایانِ شان نہیں تھا، جس کی بنیاد پر ان کے شاہی اعزازات واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
محل کے حکام کے مطابق ان کے بعض اقدامات سے شاہی خاندان کی نیک نامی متاثر ہوئی اور سلطان حسنال بولکیہ کے لیے احترام میں کمی کا اظہار ہوا، تاہم سرکاری ذرائع نے مبینہ نامناسب طرز عمل کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
View this post on Instagram
خاندان پر کیا اثر پڑا؟
شاہی فرمان کے بعد پینگیران رابعۃ العدویہ سے ان کا اعلیٰ شاہی خطاب ’یانگ امات مولیا پینگیران اناک استری‘ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ تاہم ان کی شہزادہ عبد المالک سے طلاق کے حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب شاہی جوڑے کی چار بیٹیوں کے خطابات اور شاہی حیثیت سلطان کے اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوئی۔
طلاق کے بغیر شاہی خطابات واپس لینے کا نایاب فیصلہ
شہزادہ عبد المالک اور پینگیران رابعۃ العدویہ کی شادی 2015 میں برونائی کے دارالحکومت میں 10 روزہ شاندار تقریبات کے دوران ہوئی تھی۔ طلاق کے بغیر شاہی خطابات واپس لیا جانا برونائی کے شاہی خاندان میں ایک غیر معمولی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
ماضی میں سلطان کی جانب سے طلاق کے بعد شاہی خطابات واپس لیے جانے کی مثالیں موجود ہیں، جن میں 2003 اور 2010 میں ان کی سابق اہلیاؤں کے خطابات واپس لیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔














