انڈیا کے ریاست آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے آبادی میں کمی کے خدشات کے پیش نظر ایک حیران کن اعلان کرتے ہوئے تیسری اولاد کی پیدائش پر 30 ہزار روپے اور چوتھی اولاد پر 40 ہزار روپے دینے کی پیشکش کر دی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ نے یہ اعلان سری کاکولم ضلع کے علاقے نرسنناپیٹا میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ بدلتے معاشی حالات کے باعث کچھ خاندان صرف ایک بچے تک محدود ہو رہے ہیں، جو مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔
🚨Big move in Andhra Pradesh! CM N Chandrababu Naidu announces cash incentives for families having 3rd & 4th child – ₹30k & ₹40k respectively. Aiming to boost low Total Fertility Rate (1.5) amid concerns over the ageing population & workforce shortage. pic.twitter.com/0BgSqdzzmt
— indiainlast24hr (@indiain24hr) May 16, 2026
انہوں نے کہا کہ پہلے وہ خاندانی منصوبہ بندی کے حامی تھے، مگر اب صورتحال بدل چکی ہے اور بچے ایک بار پھر ملک کا ’قیمتی سرمایہ‘ ہیں۔ ان کے مطابق حکومت تیسری اولاد کی پیدائش پر فوری 30 ہزار روپے اور چوتھی پر 40 ہزار روپے دے گی۔
نائیڈو نے جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بھارت کو بھی کم شرحِ پیدائش کے سنگین نتائج سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی آبادی اس وقت مستحکم رہتی ہے جب فی عورت اوسطاً 2.1 بچے ہوں۔
ان کے اس فیصلے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس رہنما کارتی چدمبرم نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے صرف ’?Seriously‘ لکھا اور فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کی شرح پیدائش میں نمایاں کمی، وجوہات کیا ہیں؟
کانگریس کے قومی ترجمان آلوک شرما نے کہا کہ ملک میں گزشتہ برسوں سے آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی پر کوئی واضح قومی پالیسی موجود نہیں، اور یہ مسئلہ سیاسی طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح وائی ایس آر کانگریس کے ترجمان کارتک یلاپراگادا نے اس اعلان کو حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وعدے بغیر مالی بنیاد اور احتساب کے کیے جا رہے ہیں۔
یہ اعلان بھارت میں آبادی، معیشت اور سیاسی حکمتِ عملی پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔














