امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیوں کی معاونت کے لیے عراق کے مغربی صحرا میں 2 خفیہ فوجی اڈے قائم کیے تھے۔
اخبار نے عراقی اور علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والا ایک مقام ان 2 خفیہ تنصیبات میں شامل تھا، جنہیں اسرائیل ایک سال سے زائد عرصے تک عراق کے اندر وقفے وقفے سے استعمال کرتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے عراق میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ کا ہیڈکوارٹر تباہ کردیا
رپورٹ کے مطابق ان اڈوں کو فضائی معاونت، ایندھن کی فراہمی اور طبی سہولیات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ جون 2025 میں ایران کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران بھی ان تنصیبات نے اہم کردار ادا کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ان خفیہ سرگرمیوں کا انکشاف اس وقت ہوا جب مارچ میں عراقی چرواہے عواد الشمری نے النخیب کے قریب غیر معمولی فوجی نقل و حرکت دیکھی۔
BREAKING: NYT: Israel secretly operated at least two covert military outposts in western Iraq for more than a year to support operations against Iran.https://t.co/ZoB3pIz8hG pic.twitter.com/R2ekWxPmiF
— World Source News (@Worldsource24) May 17, 2026
اس نے ہیلی کاپٹر، خیمے اور ایک عارضی لینڈنگ اسٹرپ جیسی تنصیب دیکھنے کے بعد مقامی حکام کو اطلاع دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعد ازاں عواد الشمری لاپتا ہوگیا اور بعد میں اس کی لاش ملی۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
علاقے کی تحقیقات کے لیے جانے والی عراقی فورسز پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔
اس سے قبل رواں ماہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کے لیے عراق کے مغربی صحرا میں ایک خفیہ فوجی اڈا قائم کیا ہے۔

تاہم وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینیئر عراقی سیکیورٹی عہدیدار نے عراق کے مغربی صحرا میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے دعوؤں کو غلط قرار دیا تھا۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ مارچ میں النخیب کے صحرائی علاقے میں ایک پراسرار فضائی آپریشن ضرور سامنے آیا تھا، تاہم اس معاملے سے اسی وقت نمٹ لیا گیا تھا۔














