سعودی عرب نے میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اصول جاری کر دیے

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب نے میڈیا کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے رہنما اصول جاری کر دیے ہیں، جن کا مقصد میڈیا مواد کی ساکھ، عوامی اعتماد، نجی حقوق اور معاشرتی اقدار کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

سعودی وزارت اطلاعات، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی، جنرل اتھارٹی آف میڈیا ریگولیشن، سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی اور سعودی میڈیا فورم کی شراکت سے تیار کردہ دستاویز میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے مواد کی تیاری، تدوین، اشاعت اور دوبارہ ترسیل کے لیے واضح اصول وضع کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کے نتائج کہیں زیادہ وسیع، شدید اور دیرپا ہوں گے، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا بھارت کو انتباہ

دستاویز کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوے استعمال کے ساتھ غلط معلومات، گمراہ کن مواد، فراڈ، ڈیپ فیک، رائے عامہ پر غیر شفاف اثر اندازی اور سرحد پار ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے مواد سے متعلق چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ اور محفوظ استعمال ناگزیر ہے۔

رہنما اصولوں میں شفافیت کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ میڈیا اداروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مواد تیار کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی مواد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار، تبدیل یا بہتر کیا گیا ہو تو اس کی مناسب وضاحت کی جائے، تاکہ عوام حقیقی اور مصنوعی مواد میں فرق کر سکیں۔

دستاویز میں معلومات کی درستگی، پیشہ ورانہ معیار، سیاق و سباق کی حفاظت اور حقائق کی تصدیق پر بھی زور دیا گیا ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کسی ادارے یا فرد کو پیشہ ورانہ یا قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔

سعودی اصولوں کے تحت کسی فرد کی تصویر، آواز، ذاتی معلومات یا شناخت کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے استعمال کرنے کے لیے قانونی بنیاد یا واضح اجازت ضروری ہوگی۔ عوامی شخصیات، بچوں اور حساس سماجی معاملات سے متعلق مواد کے لیے اضافی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔

دستاویز میں ڈیپ فیک، گمراہ کن، نقصان دہ، توہین آمیز، فراڈ پر مبنی یا معاشرتی اقدار اور متعلقہ قوانین کے خلاف مواد کی تیاری، اشاعت یا دوبارہ ترسیل کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں اور پلیٹ فارمز کو ایسے مواد کی نشاندہی، روک تھام، اصلاح یا حذف کرنے کے لیے فوری اقدامات کا پابند کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیرِ اطلاعات کا انتباہ: مصنوعی ذہانت اور تخلیقی روزگار کا مستقبل

رہنما اصولوں میں غیر جانبداری، الگورتھمک تعصب سے بچاؤ، سماجی ہم آہنگی کے تحفظ، عوامی آگاہی، میڈیا خواندگی اور وسیع اثر رکھنے والے مواد کے لیے اثرات کے جائزے کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق یہ اصول میڈیا اداروں، سرکاری و نجی اداروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مواد تیار کرنے والوں اور صارفین کے لیے ایک قومی رہنما فریم ورک کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کا مقصد جدت، ذمہ داری اور عوامی اعتماد کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp