پاکستان رواں سال اکتوبر میں پہلی بار خواتین کے عالمی ٹیم ٹینس ایونٹ بلی جین کنگ کپ کی میزبانی کرے گا جس میں ایشیا کی 10 خواتین ٹیمیں شرکت کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: 20 سال بعد پاکستان کا ٹینس میں بڑا اعزاز، محمد شعیب نے تاریخ رقم کردی
یہ ایونٹ 19 سے 25 اکتوبر تک منعقد ہوگا اور اسے پاکستان میں خواتین کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق قریشی نے اس پیشرفت کو پاکستان کی اسپورٹس تاریخ کا تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں ایشیائی خواتین ٹیمیں پاکستان آ کر بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کے لیے ایک ’گیم چینجر‘ ثابت ہوگا کیونکہ انہیں اپنے ہوم گراؤنڈ پر عالمی معیار کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے اور عالمی رینکنگ بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔
اعصام الحق کے مطابق انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے پاکستان کو میزبانی کے حقوق دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری اب پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد پر اعتماد کر رہی ہے۔
مزید پڑھیے: پی ٹی ایف نے ملک میں ٹینس لیگ کروانے کے لیے کمر کس لی
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ٹورنامنٹ کو اعلیٰ ترین معیار کے مطابق منعقد کیا جائے گا جبکہ اس ایونٹ کے ذریعے دنیا کو پاکستان کا مثبت اور نرم تشخص بھی دکھایا جائے گا۔
اعصام الحق نے کہا کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن خواتین کھلاڑیوں کو مرد کھلاڑیوں کے برابر مواقع، پلیٹ فارم اور شناخت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور بلی جین کنگ کپ اسی وژن کی عملی مثال ہوگا۔
بلی جین کنگ کون ہیں؟
بلی جین کنگ امریکا کی سابق عالمی نمبر ایک ٹینس کھلاڑی اور خواتین کے حقوق کی عالمی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 39 گرینڈ سلیم ٹائٹلز جیتے۔
سنہ 1973 میں انہوں نے مشہور ’بیٹل آف دی سیکسز‘ مقابلے میں بوبی رِگس کو شکست دی جسے خواتین کھیلوں کی تاریخ کا اہم لمحہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹینس کوئین مونیکا سیلیس کو نایاب بیماری کا سامنا
انہوں نے ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا جبکہ سنہ 2020 میں خواتین کے عالمی ٹیم ٹینس ایونٹ فیڈریشن کپ کا نام ان کے نام پر ’بلی جین کنگ کپ‘ رکھا گیا۔














