وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کے عمل میں بتدریج پیشرفت ہو رہی ہے اور معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
سیالکوٹ میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ صورتحال ممکنہ حل کے قریب پہنچ چکی ہے۔
خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کوششوں کے ذریعے دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پاکستان کی سفارتی کاوشیں ضرور کامیاب ہوں گی۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے تسلیم کیاکہ مہنگائی ایک حقیقت ہے اور محدود آمدن رکھنے والے طبقات اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، تاہم جنگی صورتحال کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق معاشی بحالی کا عمل نہ صرف سست پڑا بلکہ بعض معاملات میں الٹا اثر بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر خطے میں امن قائم ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے معاشی بہتری کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
خواجہ آصف نے مزید کہاکہ حکومت کو اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔














