پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور “سلطان آف سوئنگ” وسیم اکرم نے حج 2026 کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حج کے مناسک ادا کرنا ان کے لیے مشکل نہیں تھا، تاہم عقیدت مندوں کی جانب سے مسلسل تصاویر اور سیلفیوں کی درخواستوں نے انہیں خاصا تھکا دیا۔
یہ بھی پڑھیں:وسیم اکرم کی سعادتِ حج پر جذباتی ٹوئٹ، روحانی سفر کو زندگی کا اہم موڑ قرار دے دیا
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے اس سال سابق قومی کپتان مصباح الحق اور معروف ٹی وی میزبان فخر عالم کے ہمراہ فریضۂ حج ادا کیا۔ اس دوران ان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں جنہیں مداحوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
وسیم اکرم نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں فخر عالم نے انہیں حج اور عید کی مبارک باد پیش کی اور بطور ذیابیطس کے مریض حج کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں سوال کیا۔

اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے بتایا کہ وہ اپنی فریز شدہ انسولین ساتھ لے کر گئے تھے جو تقریباً 24 گھنٹے تک مؤثر رہتی تھی، اس لیے صحت کے حوالے سے انہیں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔
انہوں نے کہا میرے خیال میں حج مشکل نہیں تھا کیونکہ انسان وہاں عبادت کے لیے جاتا ہے۔ ہر مسلمان کے لیے زندگی میں کم از کم ایک بار حج کرنا بہت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وسیم اکرم کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا منفرد انداز سوشل میڈیا پر وائرل
اپنے حج کے تجربے پر گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں مناسکِ حج سے زیادہ مداحوں کے ساتھ تصاویر بنوانے نے تھکا دیا۔ انہوں نے کہا میں معذرت کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں، مجھے لوگوں کی محبت پر خوشی ہے، لیکن منیٰ میں ایک موقع پر نماز سے فارغ ہوا تو سات افراد تصاویر لینے کے لیے انتظار کر رہے تھے۔
سابق کپتان نے حج کے سفر کو اپنی زندگی کا یادگار اور روحانی تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دورانِ حج اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کے لیے نہایت بہترین اور بابرکت تجربہ ثابت ہوا، جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔













