گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

اتوار 31 مئی 2026
author image

عامر مفتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گجرات کی پرانی گلیوں میں بعض دروازے ایسے بھی ہوتے ہیں جو دن کے اجالے میں بند دکھائی دیتے ہیں مگر شام کے دھندلکے میں اچانک کھل جاتے ہیں، اور ان کے اندر سے کسی دھیمی ہنسی، کسی ٹوٹے ہوئے مصرعے، یا کسی پرانی پنجابی بولی کی خوشبو آتی ہے۔ انہی گلیوں میں، جہاں سردیوں کی راتوں میں انگیٹھیوں کے گرد بیٹھ کر وارث شاہ کے ابواب پڑھے جاتے ہیں اور جہاں نیم تاریک برآمدوں میں فارسی کے اشعار آج بھی دیواروں سے ٹیک لگا کر سوتے محسوس ہوتے ہیں، وہیں سے ایک ایسی آواز اٹھتی ہے جو صرف گجرات ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب کے مزاج کو اپنے مخصوص طنزیہ تبسم میں سمو لیتی ہے۔ وہ آواز انور مسعود کی ہے۔

کہتے ہیں گجرات کی مٹی میں ایک عجیب تاثیر موجود ہے۔ یہاں لفظ صرف بولے نہیں جاتے، جیے جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے یہ شہر پیر فضل حسین گجراتی جیسے درویش شاعر کو جنم دیتا ہے اور پھر شریف کنجاہی جیسی شخصیت کو، جس کے لہجے میں پنجاب کے کھیتوں کی نمی اور دانش وروں کی سنجیدگی ایک ساتھ سانس لیتی ہے۔ انہی روایتوں کے درمیان انور مسعود نمودار ہوتے ہیں، مگر وہ صرف شاعر نہیں، ایک ایسا قصہ گو ہیں جو دکھ کو قہقہے کی چادر اوڑھا دیتے ہیں۔ ان کی نظموں میں بظاہر ہنسی موجود ہوتی ہے، مگر اس ہنسی کے عقب میں ایک گہری اداسی دبے پاؤں چلتی رہتی ہے، جیسے کسی پرانی حویلی میں رات گئے کوئی تنہا چراغ جل رہا ہو۔

ان کی گفتگو میں گجرات کی گلیوں کا بے ساختہ پن شامل رہتا ہے۔ وہ جب پنجابی میں شعر پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی دیہاتی میلے میں اچانک کوئی صوفی مجذوب بول اٹھا ہو۔ ان کا ہر مصرع ادا نہیں ہوتا بلکہ ایک منظر بن جاتا ہے۔ ان کی آنکھیں، ہاتھوں کی جنبش، آواز کا اتار چڑھاؤ، سب مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں شاعر اور اداکار کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔ سامعین صرف شعر نہیں سنتے بلکہ اسے جیتے ہیں۔ ان کی پنجابی میں وہی بے ساختہ شوخی موجود رہتی ہے جو چناب کے کنارے بیٹھے کسی بوڑھے کسان کی گفتگو میں ہوتی ہے، اور وہی تلخی بھی جو وقت کے ہاتھوں شکستہ لوگوں کے لہجوں میں خاموشی سے اتر آتی ہے۔

یہ انہی کی شخصیت کا اثر ہے کہ ان کی شہرت سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہتی۔ گجرات کی ایک گلی سے اٹھنے والی آواز لندن، ٹورنٹو، دبئی اور نیو یارک کی محفلوں تک پہنچتی ہے۔ دنیا کے مختلف شہروں میں لوگ ان کی نظموں کے مصرعے یوں دہراتے ہیں جیسے وہ ان کی اپنی زندگی کا حصہ ہوں۔ ایک بار مکہ مکرمہ میں، جب وہ عمرہ ادا کر رہے ہوتے ہیں، تو طواف کے ہجوم میں ایک اجنبی بے اختیار انہیں گلے لگا لیتا ہے۔ اس کی آنکھیں نم ہوتی ہیں۔ وہ کہتا ہے، ’میں دعا مانگ رہا تھا کہ زندگی میں ایک بار آپ سے ملاقات ہو جائے، اور آج میری دعا قبول ہو گئی‘۔ اس لمحے شاید انور مسعود خود بھی حیران ہوتے ہیں کہ گجرات کی گلیوں سے نکلنے والی آواز حرم کے صحن تک کیسے پہنچ جاتی ہے۔

انور مسعود کی شخصیت میں ایک اور عجیب امتزاج موجود رہتا ہے۔ وہ صرف پنجابی کے شاعر نہیں بلکہ اردو اور فارسی بھی ان کے باطن میں یوں آباد رہتی ہیں جیسے ایک ہی صحن میں 3 الگ الگ موسم اتر آئے ہوں۔ وہ اورینٹل کالج میں فارسی کے ماسٹرز کے طالب علم رہتے ہیں، اور ان کی شریکِ حیات بھی اسی جماعت میں ان کی ہم جماعت ہوتی ہیں۔ بعد میں وہ فارسی پڑھاتے ہیں، مگر وقت ایک دن خاموشی سے ان کی رفیقۂ حیات کو ان سے جدا کر دیتا ہے۔ اب جب وہ 90 برس کی عمر عبور کر چکے ہیں تو ان کی گفتگو میں کبھی کبھی ایسی خاموشی اتر آتی ہے جسے شاید صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے سب سے عزیز رشتے کو یادوں کے سپرد کیا ہو۔

وہ اکثر کہتے ہیں ’میں شاعری میں مسکراتا ہوں تاکہ تنہائی میں رو سکوں‘۔ یہی جملہ ان کی پوری شخصیت کی کنجی محسوس ہوتا ہے۔ ان کے طنز میں جو ہنسی سنائی دیتی ہے، وہ دراصل ایک تہذیب کے زوال، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور وقت کی بے رحمی کے خلاف ایک خاموش احتجاج بن جاتی ہے۔ شاید اسی لیے ان کے قہقہوں کے بعد محفل پر ایک مختصر خاموشی چھا جاتی ہے، جیسے ہر شخص اچانک اپنی اپنی اداسی یاد کر لیتا ہو۔

ان کی زندگی کے آخری برسوں میں بھی روایت کا چراغ بجھتا نہیں۔ ان کا بیٹا ایک نابینا لڑکی سے شادی کر کے ایک ایسی مثال قائم کرتا ہے جو محبت اور انسانیت کو سماج کے ظاہری پیمانوں سے بلند تر ثابت کرتی ہے۔ یہ واقعہ خود انور مسعود کی شاعری ہی کا تسلسل محسوس ہوتا ہے، وہی شاعری جس میں محروم، خاموش اور شکستہ لوگوں کے لیے ایک غیر محسوس شفقت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔

گجرات کی ان گلیوں میں جہاں شام کے بعد چراغوں کی زرد روشنی میں لوگ داستانیں سنتے ہیں، آج بھی اگر کوئی بوڑھا شخص کسی چائے خانے میں بیٹھ کر انور مسعود کا شعر دہرا دے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کی پرانی دیواریں ایک لمحے کے لیے پھر سانس لینے لگی ہیں۔ اور شاید یہی بڑے شاعروں کی اصل پہچان ہوتی ہے کہ وہ صرف کتابوں میں نہیں رہتے بلکہ شہروں کی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

گجرات کے قدیم محلوں میں شام ہمیشہ ذرا دیر سے اترتی ہے۔ شاہ دولہ دربار کے میناروں پر جب دھند کی ہلکی تہہ اترتی ہے اور بیگم پورہ کی تنگ گلیوں میں پرانے لکڑی کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہونے لگتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر اپنی صدیوں پرانی یادداشت کے اوراق الٹ رہا ہو۔ ان گلیوں میں ادب کبھی اجنبی نہیں رہا۔ یہاں لفظ دیواروں سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہیں، اور شاعری اکثر کسی خاموش ڈیوڑھی سے نکل کر گزرنے والوں کے ساتھ چلنے لگتی ہے۔

شاہ دولہ دربار کے آس پاس کے کوچوں میں ایک زمانے تک اہلِ قلم کے چراغ روشن رہے۔ قریب ہی پیر فضل حسین گجراتی کی رہائش ہوتی ہے۔ دربار کے عقب میں ایک تنگ اور نیم تاریک گلی میں شریف کنجاہی رہتے ہیں جن کی گفتگو میں پنجاب کی مٹی کی مہک شامل رہتی ہے۔ پیر نصیر الدولہ اپنی مخصوص خاموش وجاہت کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں اور طارق محمود طارق اپنی دھیمی چال میں گویا کسی نامکمل غزل کا مصرع محسوس ہوتے ہیں۔ حکیم جمیل کا ڈیرہ ان دنوں ادبی بیٹھک کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ شام ڈھلے وہاں حقے کی دھیمی آواز، چائے کی بھاپ، فارسی اشعار، پنجابی محاورے اور اردو تنقید ایک دوسرے میں تحلیل ہونے لگتے ہیں۔ بعض راتوں میں ایسا لگتا ہے جیسے گجرات کی ساری ادبی روح اسی ایک بیٹھک میں جمع ہو گئی ہو۔

انہی گلیوں میں پنکھوں کی صنعت سے وابستہ خاندان آباد ہوتے ہیں۔ انہی گھروں میں ایک گھر انور مسعود کے خاندان کا بھی ہے۔ فیض الحسن ناصر، جو بعد کے برسوں میں معروف شاعر بنتے ہیں، ان کے قریبی عزیزوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پروفیسر محمد اسلم کھوکھر، جن کی صاحبزادی فوزیہ اسلم انگریزی ادب کی ممتاز اسکالر بنتی ہیں اور بعد میں سرطان کے باعث دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، اسی خانوادے سے نسبت رکھتے ہیں۔

8 نومبر 1935 کو اسی شہر گجرات میں انور مسعود پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے ان کی دادی ایک عجیب خواب دیکھتی ہیں۔ وہ دیکھتی ہیں کہ ان کے گھر کی چھت پر ایک روشن چاند اتر آیا ہے اور ساری فضا نرم نور سے بھر گئی ہے۔ پرانی عورتیں ایسے خوابوں کی اپنی تعبیر رکھتی ہیں۔ شاید اسی لیے گھر کی بزرگ خواتین دیر تک خاموش نظروں سے نومولود بچے کو دیکھتی رہتی ہیں، جیسے وہ اس کے چہرے میں کسی آنے والے زمانے کی جھلک تلاش کر رہی ہوں۔

ان کا خاندان نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے والد کا پیشہ ابتدا میں پیتل اور تانبے کے برتنوں، خصوصاً پانی کے ٹینکوں کی تجارت سے وابستہ رہتا ہے۔ مگر ایک غیر ملکی کمپنی کے بازار میں آنے کے بعد ان کا کاروبار آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہونے لگتا ہے۔ کاروباری ناکامی شاید ان کے باطن میں ایک خاموش شکست کی طرح اترتی ہے اور پھر وہ رفتہ رفتہ دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش ہو کر روحانیت کی وادی میں داخل ہونے لگتے ہیں۔ مسجد میں بیٹھے ہوئے انہیں اکثر ایک عجیب روحانی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے قریبی لوگوں سے ذکر کرتے ہیں کہ بعض اوقات نماز یا ذکر کے دوران انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مسجد کی چھت غائب ہو گئی ہو اور اوپر ایک بے پایاں خلا پھیل گیا ہو۔ یہ احساس ان کے مزاج کو مزید درویشانہ بناتا چلا جاتا ہے۔

ان کے خاندان میں ادبی ذوق نسلوں سے موجود رہتا ہے۔ ان کے تایا شاعری کرتے ہیں جبکہ ان کی نانی کرم بی بی خود ایک صاحبِ ذوق شاعرہ ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی مسلسل غموں سے عبارت رہتی ہے۔ ان کے 5 بیٹے ہوتے ہیں جن میں سے 4 تپِ دق کے باعث وفات پا جاتے ہیں اور پانچواں بیٹا گینگرین کا شکار ہو کر زندگی ہار جاتا ہے۔ کرم بی بی اپنے اس کرب کو شاعری میں ڈھال دیتی ہیں۔ شاید اسی لیے انور مسعود کے لہجے میں بعد کے زمانوں میں جو دبی ہوئی اداسی محسوس ہوتی ہے، اس کی جڑیں انہی نسوانی نوحوں میں پیوست دکھائی دیتی ہیں۔

انور مسعود کی والدہ افسانوی ادب کا شوق رکھتی ہیں۔ وہ بعد میں یاد کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی والدہ اور ماموں کے ساتھ راولپنڈی میں مقیم ہوتے ہیں تو نسیم حجازی کے ناول باری باری بلند آواز میں پڑھتے ہیں۔ ان ناولوں کی فضا، اسلامی تاریخ کے کردار، شکست خوردہ سلطنتیں اور گھوڑوں کی ٹاپیں شاید ان کے باطن میں بہت گہرے اترتی چلی جاتی ہیں۔

ان کی ابتدائی تعلیم لاہور میں شروع ہوتی ہے جہاں ان کا خاندان وسن پورہ میں رہائش رکھتا ہے۔ ابتدائی جماعتوں کے لیے انہیں ایک ایسے اسکول میں داخل کروایا جاتا ہے جو ان کے گھر کے قریب واقع ہوتا ہے۔

اسکول کی عمارت زیادہ کشادہ نہیں ہوتی مگر وہاں کے کمروں میں ایک عجیب خاموش وقار پایا جاتا ہے۔ ان کے تاریخ کے استاد رمضان ہوتے ہیں جن کی آواز میں قصہ گوئی کا ایک خاص آہنگ شامل رہتا ہے۔ اس زمانے میں خوش خطی پر غیر معمولی توجہ دی جاتی ہے۔ انگریزی لکھنے کے لیے ’جی‘ قلم کا نب ہولڈر میں لگایا جاتا ہے جبکہ اردو کے لیے ’زیڈ‘ قلم استعمال ہوتا ہے۔ اسی ابتدائی اسکول میں ایک مرتبہ انہیں اچھی کارکردگی پر انعام کے طور پر 2 چاک دیے جاتے ہیں۔ بعد میں وہ نئے وطن اسکول میں داخل ہوتے ہیں جو برانڈرتھ روڈ پر واقع ہوتا ہے۔ وہاں پہنچنے کے لیے انہیں روزانہ پیدل چلتے ہوئے مصری شاہ اور لنڈا بازار کے علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ راستے اپنے اندر لاہور کے پرانے شہر کی ایک الگ دنیا سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں، کہیں لوہے کی دکانیں، کہیں پرانے کپڑوں کی بو، کہیں تانگوں کی آوازیں، اور کہیں گلیوں میں پھیلی ہوئی دھول۔

اسکول کا ہیڈ ماسٹر سخت مزاج شخص ہوتا ہے جو ہاتھ میں موٹی چھڑی رکھتا ہے اور طلبہ کو بے دریغ مارتا ہے۔ اس دور کے تعلیمی ماحول میں خوف اور احترام ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔

انہی بچپن کے برسوں میں انور مسعود ایک عجیب خواب دیکھتے ہیں۔ وہ خواب میں حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ اورحضرت عثمانؓ کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں۔ صبح جب وہ گلی میں نکلتے ہیں تو وہاں ایک نئی نیلی تختی لگی ہوتی ہے جس پر ’ابو بکرؓ اسٹریٹ‘ لکھا ہوتا ہے۔ بچپن کے ذہن میں خواب اور حقیقت اکثر ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں، اور بعض منظر ساری عمر حافظے میں روشن رہتے ہیں۔

بچپن کے انہی برسوں میں تقسیم کے فسادات کی پرچھائیاں لاہور کی گلیوں پر اترنے لگتی ہیں۔ ایک دن رام گلی سے گزرتے ہوئے ایک ہندو عورت چھت سے انور مسعود پر اینٹ پھینکتی ہے مگر وہ محفوظ رہتے ہیں۔ بعد میں ان کا خاندان واپس گجرات آ جاتا ہے اور یہ شہر ان کے اندر چھپے شاعر کو آہستہ آہستہ بیدار کرنے لگتا ہے۔

اپنے محلے میں وہ ایک پڑوسی کی بھینس پر طنزیہ نظم لکھتے ہیں۔ نظم اتنی مشہور ہوتی ہے کہ محلے میں باقاعدہ جھگڑے کی نوبت آ جاتی ہے اور مشتعل لوگ ہاکیاں لے کر ان کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں، مگر آخرکار بزرگ معاملہ رفع دفع کروا دیتے ہیں۔ شاید یہی ان کے طنزیہ شعور کی پہلی عوامی آزمائش ہوتی ہے۔

انور مسعود پبلک ہائی اسکول میں داخل ہوتے ہیں جسے تقسیم سے پہلے مفتی نامدار ایڈووکیٹ قائم کرتے ہیں۔ اس زمانے میں شیخ شفقت اللہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہوتے ہیں۔ وہاں انہیں حنیف شاہ انگریزی پڑھاتے ہیں، جبکہ غلام محمد اور ماسٹر شوکت بھی ان کے اساتذہ میں شامل ہوتے ہیں۔ ماسٹر شوکت تاریخ پڑھاتے ہیں۔ ایک روز انور مسعود ایک مضمون لکھتے ہیں تو ماسٹر شوکت دیر تک خاموش رہتے ہیں، پھر کہتے ہیں: ’یہ لڑکا ایک دن بڑا ادیب بنے گا‘۔

میٹرک میں نمایاں کامیابی کے بعد خاندان کی خواہش ہوتی ہے کہ انور مسعود ڈاکٹر بنیں، چنانچہ انہیں زمیندار کالج کے پری میڈیکل گروپ میں داخل کروایا جاتا ہے۔ مگر قسمت شاید پہلے ہی ان کے لیے کوئی اور راستہ منتخب کر چکی ہوتی ہے۔ طبیعات اور حیاتیات کی کتابیں ان کے ہاتھوں میں ضرور ہوتی ہیں مگر ان کا مزاج کسی اور سمت بہہ رہا ہوتا ہے۔ مینڈکوں کی چیر پھاڑ اور پھولوں کی پنکھڑیوں کو کاٹنے کا عمل انہیں اپنے مزاج کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔ وہ رفتہ رفتہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ میڈیکل کا خشک اور تجرباتی ماحول ان کی فطرت کے لیے موزوں نہیں۔

کئی صبحیں ایسی گزرتی ہیں جب وہ کالج جانے کے لیے گھر سے نکلتے ضرور ہیں مگر میڈیکل کلاس کی طرف جانے کے بجائے کھیتوں، باغوں اور خاموش راستوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔ کہیں درختوں کے سائے میں بیٹھ جاتے، کہیں نہر کے کنارے دیر تک چلتے رہتے، اور کہیں کسی باغ کی خاموشی میں اپنے اندر ابھرتے ہوئے لفظوں کو سنتے رہتے۔ ان دنوں شاید ان کے اندر شاعر آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھول رہا ہوتا ہے جبکہ خاندان اب بھی انہیں مستقبل کا ڈاکٹر دیکھنا چاہتا ہے۔

آخرکار ایک دن وہ اپنے والدین کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے میڈیکل گروپ چھوڑ کر آرٹس اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ابتدا میں گھر کے اندر خاموش تشویش کی فضا پیدا ہوتی ہے، مگر جلد ہی یہ احساس ابھرنے لگتا ہے کہ بعض زندگیاں پہلے ہی اپنے راستے کا انتخاب کر چکی ہوتی ہیں اور انہیں زبردستی کسی اور سمت نہیں موڑا جا سکتا۔

زمیندار کالج کی عمارت ان دنوں علم و ادب کا عجیب مرکز محسوس ہوتی ہے۔ یہاں پروفیسر دوست محمد بھٹی بھی انہیں پڑھاتے ہیں۔ ایک دن وہ جماعت میں خاموش بیٹھے ہوتے ہیں کہ پروفیسر چوہدری فضل حسین دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں شرارت بھری چمک ہوتی ہے۔ وہ انور مسعود کو دیکھ کر پنجابی میں کہتے ہیں ’توں کس کھو کھاتے وچ پیا ایں، ڈڈو پیا چیرنا ایں؟‘۔

یہ جملہ گویا ان کی تقدیر کا رخ بدل دیتا ہے۔ پروفیسر چوہدری فضل حسین کے اصرار پر وہ میڈیکل چھوڑ کر آرٹس میں فارسی کے طالب علم بن جاتے ہیں۔ بعد میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ فارسی کی محبت کا پہلا بیج انہی استاد نے ان کے دل میں بویا۔

زمیندار کالج میں ان کے محبوب اساتذہ میں پروفیسر حامد حسن سید بھی شامل ہوتے ہیں جو انہیں انگریزی پڑھاتے ہیں۔ ایک مرتبہ انور مسعود ایک مضمون لکھتے ہیں۔ پروفیسر حامد حسن سید اس کے آخری جملے پر دیر تک رکے رہتے ہیں اور پھر دھیرے سے کہتے ہیں: ’یہ جملہ غیر معمولی ہے‘۔

اگلے روز پروفیسر حامد حسن سید ایک لفافہ انہیں دیتے ہیں جس میں 5 روپے رکھے ہوتے ہیں۔ انور مسعود بعد میں مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ 5 روپے تو دوستوں کے ساتھ کھانے پینے پر خرچ ہو گئے مگر محبت کا وہ لفافہ ساری عمر ان کے پاس محفوظ رہا۔

زمیندار کالج کے ادبی حلقوں میں اب انور مسعود کا نام ایک نوجوان شاعر کے طور پر لیا جانے لگتا ہے۔ وہ ایف اے اور بی اے امتیازی حیثیت سے پاس کرتے ہیں اور بی اے میں رول آف آنر حاصل کرتے ہیں۔ 1961 میں ان کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے جب وہ اورینٹل کالج میں داخلہ لینے لاہور جاتے ہیں۔

ابتدا میں ان کا ارادہ انگریزی ادب میں داخلہ لینے کا ہوتا ہے مگر حمید احمد خان ان کے علمی رجحان کو دیکھ کر انہیں فارسی کی طرف مائل کرتے ہیں۔ پھر وہ فارسی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر باقر کے پاس جاتے ہیں۔ ڈاکٹر باقر مسکراتے ہوئے کہتے ہیں ’فارسی میں ایم اے کر کے کیا کرو گے؟ تیل بیچو گے؟‘۔

انور مسعود فوراً جواب دیتے ہیں ’سر! ایران بھی تو تیل بیچ رہا ہے‘۔

یہ جواب سن کر ڈاکٹر باقر بے اختیار ہنس پڑتے ہیں اور داخلے کے کاغذات پر دستخط کر دیتے ہیں۔

اورینٹل کالج اس زمانے میں فارسی علوم کا ایک درخشاں جہان محسوس ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ وہاں پرنسپل ہوتے ہیں۔ پروفیسر بدخشانی، پروفیسر رازی اور پروفیسر وزیر الحسن عابدی جیسے اساتذہ فارسی پڑھاتے ہیں۔ اسی برس زمیندار کالج کے 2 طالب علم فارسی میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک انور مسعود اور دوسرے آفتاب اصغر۔ اسی جماعت میں صدیقہ بیگم بھی داخلہ لیتی ہیں جو بعد میں انور مسعود کی شریکِ حیات بنتی ہیں۔ یہ منظر کسی پرانی ادبی داستان کا باب محسوس ہوتا ہے، جیسے لفظ پہلے 2 روحوں کو قریب لاتے ہیں اور پھر زندگی خاموشی سے انہیں ایک دوسرے کا مقدر بنا دیتی ہے۔

اورینٹل کالج کے انہی دنوں میں پروفیسر وزیر الحسن عابدی ان پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ 1962 میں وہ ایک نشست میں کہتے ہیں کہ ایران کے اندر ایک زندہ شعور موجود ہے اور ایک دن وہاں اسلامی انقلاب طلوع ہوگا۔ اس وقت یہ بات محض ایک خواب محسوس ہوتی ہے مگر برسوں بعد تاریخ اسی خواب کی تعبیر بن جاتی ہے۔

اسی جماعت میں آفتاب اصغر کو سب سے ذہین طالب علم سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اگر وہ فارسی کے امتحان میں شریک نہ ہوں تو میدان انور مسعود کے لیے کھل جائے گا۔ آخرکار انور مسعود پورے صوبے میں اول آتے ہیں اور گولڈ میڈل حاصل کرتے ہیں۔ یوں گجرات کی نیم تاریک گلیوں سے نکلنے والا ایک خاموش لڑکا رفتہ رفتہ اردو، پنجابی اور فارسی ادب کا ایسا نام بننے لگتا ہے جس کی بازگشت بعد کے زمانوں میں دور دور تک سنائی دیتی ہے۔

زندگی مگر انور مسعود کے لیے کبھی ہموار راستہ نہیں بنتی۔ امتیازی نمبروں کے ساتھ بی اے کرنے کے باوجود ان کے گھر کی فضا آسودگی سے بہت دور رہتی ہے۔ والد عظیم صاحب کاروباری ناکامی کے بعد رفتہ رفتہ روحانیت کی دنیا میں کھو چکے ہوتے ہیں۔ بڑے خاندان کی ذمہ داری عملاً انور مسعود کے کندھوں پر آ پڑتی ہے۔ ایسے میں اعلیٰ تعلیم کا خواب ایک آسودہ طبقے کے خواب کی طرح آسان نہیں رہتا۔ وہ جانتے ہیں کہ صرف کتابوں سے محبت انسان کے اخراجات پورے نہیں کرتی۔

انہی دنوں وہ جہلم کی ایک انگریزی تمباکو کمپنی میں ملازمت اختیار کرتے ہیں۔ کمپنی تمباکو کاشت کرواتی ہے اور مقامی ڈیلروں کے ذریعے انہیں مختلف شہروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ دفتر کو ایسے منشیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو حساب کتاب، رجسٹروں اور کیش بکس کی نگرانی کر سکیں۔ انور مسعود 3 ماہ تک وہاں کام کرتے ہیں۔ صبح کے وقت دفتر کی میزوں پر کھلے رجسٹر، سیاہی کی بو، اور کھڑکیوں سے اندر آتی ہوئی تمباکو کی خام مہک ان کے حافظے میں دیر تک باقی رہتی ہے۔ مگر ان کا باطن کسی اور دنیا کی طرف مائل رہتا ہے۔ اعداد و شمار کی قطاریں انہیں کبھی پوری طرح اپنا اسیر نہیں بنا پاتیں۔

وہاں سے نکل کر وہ کنجاہ کے قریب ایک گاؤں کے اسکول میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں۔ ان دنوں دیہات میں استاد کو ’منشی جی‘ کہا جاتا ہے۔ اس چھوٹے سے اسکول میں انور مسعود اپنی نرم خوئی، شگفتہ طبیعت اور بے تکلف انداز کی وجہ سے جلد ہی بچوں اور دیہاتیوں میں محبوب ہو جاتے ہیں۔ ان کے شاگرد ان کے گرد اس طرح جمع رہتے جیسے وہ استاد کم اور گھر کے بڑے فرد زیادہ ہوں۔

انہی دنوں ان کی وہ مشہور نظم ’امبڑی‘ جنم لیتی ہے جو بعد میں پورے پنجاب میں گونجنے لگتی ہے۔ وہ نظم دراصل ان کی اپنی زندگی کی کہانی ہوتی ہے، مگر اسے مکمل ہونے میں 10 برس لگ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ان کی مقبول نظم ’بنین‘ محض 10 منٹ میں لکھی جاتی ہے، جیسے بعض تخلیقات برسوں روح میں پکتی رہتی ہیں اور بعض اچانک بارش کی طرح اتر آتی ہیں۔

اسکول کے بچوں کو ان سے ایسی وابستگی ہو جاتی ہے کہ جب وہ وہاں سے رخصت ہوتے ہیں تو ایک طالب علم کے والد انہیں خط لکھتے ہیں ’منشی جی، جدوں توں گئے او، میرا پتر بیمار رہندا اے‘۔

یہ جملہ انور مسعود کے لیے کسی ادبی انعام سے کم اہمیت نہیں رکھتا۔

ایک دن وہ جماعت میں ’سالڈ، لیکوئڈ اور گیس‘ کا سبق پڑھا رہے ہوتے ہیں۔ ایک ذہین دیہاتی لڑکا اچانک سوال کرتا ہے ’منشی جی، کوئی ایہہ جیہی شے وی ہوندی اے جتھے ایہہ تِنوں اکٹھے ہون؟‘۔

انور مسعود مسکرا کر جواب دیتے ہیں ’ہکّا۔ اوہدے وچ مٹی دی ٹھوس ساخت وی ہوندی اے، پانی وی ہوندا اے تے نلی وچوں گیس وی نکلدی اے‘۔

پورا کمرہ قہقہوں سے بھر جاتا ہے۔ شاید اسی لمحے ان کے اندر کا شاعر اور استاد ایک دوسرے سے پوری طرح ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔

اسی اسکول سے وہ لاہور واپس آتے ہیں اور اورینٹل کالج میں فارسی میں ایم اے کے لیے داخلہ لیتے ہیں۔ مگر اعلیٰ تعلیم کے یہ دن شدید مالی مشکلات سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اکثر کرائے تک کے پیسے نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گھر سے ماڈل ٹاؤن تک کئی کئی میل پیدل چلتے ہیں۔ راستے میں بھنے ہوئے سخت چنے کھاتے ہیں اور کسی سرکاری نلکے سے پانی پی لیتے ہیں۔ لاہور کی سڑکیں، درختوں کے سائے، دھول اور تھکن ان کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

انہی دنوں ڈاکٹر باقر انہیں اپنے پریس میں ملازمت دے دیتے ہیں جہاں انہیں 15 روپے ماہوار اجرت ملتی ہے۔ یہ معمولی رقم بھی ان کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے جوتے پھٹ چکے ہوتے ہیں مگر گھر میں والدہ بیمار پڑی ہوتی ہیں۔ وہ نئے جوتے خریدنے کی خواہش مؤخر کر دیتے ہیں اور انہی پیسوں سے والدہ کی دوا لے آتے ہیں۔ شاید یہی وہ دن ہوتے ہیں جب انسان کے اندر خاموشی سے برداشت کی اصل بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔

ایم اے مکمل کرنے کے بعد انہیں فارسی کے لیکچرار کی عارضی ملازمت مل جاتی ہے اور ان کی تقرری ڈیرہ غازی خان میں ہوتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں ان کا قیام تقریباً ڈھائی برس پر محیط رہتا ہے۔ اس شہر کی مٹی، اس کے خاموش درخت، گرد آلود سڑکیں اور شام کے وقت مسجدوں سے بلند ہونے والی اذانیں ان کے مزاج میں ایک اور طرح کی سنجیدگی پیدا کرتی ہیں۔

ایک روز وہ مسجد میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ امام صاحب ان کا زائچہ بناتے ہیں۔ دیر تک کاغذ پر لکیریں کھینچنے کے بعد وہ کہتے ہیں ’تہاڈے پنج بچے ہون گے۔ وچلا پتر کوئی غیرمعمولی کم کرے گا۔ تسی شہرت دی بہت اُونچی چوٹی تک جاؤ گے‘۔

بعد کے برسوں میں یہ تمام باتیں حیرت انگیز طور پر سچ ثابت ہوتی چلی جاتی ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کے بعد ان کا تبادلہ بہاولنگر ہو جاتا ہے۔ انور مسعود بعد میں اس شہر کو ایک خاموش اور نظر انداز شدہ مقام کے طور پر یاد کرتے ہیں، جہاں شامیں غیر معمولی اداس محسوس ہوتی تھیں۔ بعدازاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مستقل تقرری کے بعد ان کی زندگی مختلف شہروں کے سفر میں بدل جاتی ہے۔ مگر دوسری طرف ان کی شاعری کی شہرت بھی مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ پنجاب کے دیہات، پاکستان کے بڑے شہر، برطانیہ کی ادبی انجمنیں اور خلیج کی محفلیں سب ان کے لہجے سے آشنا ہونے لگتی ہیں۔

وہ 2 مرتبہ امریکا اور قطر میں لائف اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک اعزاز انہیں ان کی محبوب اہلیہ صدیقہ بیگم کے ہاتھوں دیا جاتا ہے۔ اس لمحے کی تصویر ان کی زندگی کے روشن ترین مناظر میں شامل ہو جاتی ہے۔ حکومتِ پاکستان انہیں پہلے تمغۂ حسن کارکردگی اور پھر ہلال امتیاز سے نوازا، جبکہ مختلف ادبی ادارے بھی انہیں بے شمار اعزازات عطا کرتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ان کی کلیات ’شیرازہ‘ کے نام سے بک کارنر جہلم سے شائع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ قطعات کا مجموعہ بھی ایک ضخیم جلد میں منظرِ عام پر آتا ہے۔ اب وہ راولپنڈی میں اپنے بیٹے عمار مسعود اور بہو شہنیلہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ گھر کے کمروں میں اب بھی صدیقہ بیگم کی یادیں موجود رہتی ہیں۔ بعض شاموں میں جب وہ خاموش بیٹھے ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کی تمام آوازیں، گجرات کی گلیاں، زمیندار کالج کے برآمدے، اورینٹل کالج کی راہداری، دیہاتی اسکول کے بچے، اور پرانی مشاعروں کی صدائیں، سب ایک ساتھ ان کے گرد جمع ہو گئی ہوں۔

اور انور مسعود، جو اپنی شاعری میں لوگوں کو ہنساتے ہیں، شاید اندر ہی اندر اب بھی کسی خاموش تنہائی میں آنسوؤں کا حساب رکھتے رہتے ہیں۔

انور مسعود کے دل و روح میں زمیندار کالج کی یادیں اس طرح سانس لیتی ہیں جیسے پرانی عمارتوں کی اینٹوں میں وقت کی نمی جذب ہو جاتی ہے۔ اس عمر کے اس مرحلے میں جب وہ اپنے بیٹوں اور بہوؤں کے زیرِ سایہ راولپنڈی میں مقیم ہوتے ہیں، زمیندار کالج کا ذکر آتے ہی ان کی آواز میں ایک خاص لرزش اور جذب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ چوہدری فضل حسین نے مجھے ادب کی راہ دکھائی، اور بعض اوقات مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اب بھی میری آواز میں بول رہے ہوں۔

وہ پروفیسر حامد حسن سید کو بھی یاد کرتے ہیں۔ وہ ایک واقعہ سناتے ہیں کہ پروفیسر صاحب نے ایک مرتبہ کہا تھا:

’جب میری وفات کے بعد منکر نکیر آئیں گے اور عربی میں سوال کریں گے تو میں ان سے کہوں گا کہ سوال انگریزی میں کریں، میں نے ساری عمر اسی زبان کے ساتھ گزاری ہے‘۔

انور مسعود یہ بات سناتے ہوئے اکثر خاموش ہو جاتے ہیں، اور پھر وہی 5 روپے والے لفافے کا ذکر آتا ہے جو ان کی آنکھوں میں آج بھی ایک روشن یاد کی طرح حرکت کرتا ہے۔

وہ اپنے پہلے سال کا ایک واقعہ بھی یاد کرتے ہیں جب انہوں نے بچپن کے دنوں پر ایک نظم لکھی تھی اور پروفیسر حامد حسن سید کے سامنے پڑھی تھی۔ استاد اس قدر متاثر ہوئے کہ بے اختیار کہہ اٹھے:

’خدا کا شکر ہے، میرا مقصد پورا ہو گیا‘۔

یہ جملہ ان کے لیے ایک داخلی سند بن گیا، جیسے کسی استاد کی دعا انسان کے مقدر کا حصہ بن جائے۔

پھر وہ پروفیسر دوست محمد بھٹی کا ذکر کرتے ہیں، جو کیمسٹری کے استاد تھے مگر غالب کے عاشق تھے۔ وہ نہایت بااصول اور محنتی استاد تھے اور لیکچر کے دوران بلیک بورڈ استعمال کرتے تھے۔ ایک دن انور مسعود اکتاہٹ کے عالم میں اپنی کتابیں جمع کر کے ان کا ایک اونچا ڈھیر بنا لیتے ہیں۔ جب پروفیسر دوست محمد بھٹی کا چہرہ بلیک بورڈ کی طرف ہوتا ہے تو انور مسعود اچانک وہ ڈھیر زمین پر گرا دیتے ہیں۔ کتابوں کے گرنے سے ایک زور دار دھماکے جیسی آواز پیدا ہوتی ہے۔ پروفیسر بھٹی بغیر پلٹے فوراً کہتے ہیں:

’رول نمبر 251 ۔۔۔ 3 ہفتے کے لیے کلاس سے باہر ہو جاؤ‘۔

رول نمبر 251 خود انور مسعود کا ہوتا ہے، چنانچہ وہ خاموشی سے کلاس سے باہر نکل جاتے ہیں۔ بعد میں جب وہ معذرت کے لیے جاتے ہیں تو دلیل دیتے ہیں کہ دنیا میں ہر جرم کی سزا فوراً نہیں دی جاتی۔ دوست محمد بھٹی مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ کل سے کلاس میں آ جانا۔

اسی دور میں ایک افسوسناک واقعہ بھی ان کی یادوں میں زندہ ہے۔ دوست محمد بھٹی ایک اچھے تیراک تھے مگر شادی سے چند روز پہلے دریائے چناب میں ڈوب جاتے ہیں اور ان کی لاش تک نہ مل سکی۔ یہ واقعہ انور مسعود کے حافظے میں ایک اداس خاموشی کی طرح محفوظ رہتا ہے۔

زمیندار کالج کے ٹک شاپ پر دوستوں کی محفلیں بھی ان کی یادوں کا حصہ ہیں۔ وہاں چائے کے پیالوں کے ساتھ گفتگو، ہنسی، اور کبھی کبھی شعر و ادب کی بحثیں چلتی رہتیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے زمانے میں سائنس گروپ کی مشترکہ کلاسیں شروع ہو چکی تھیں، جہاں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ ایک لڑکی، جس کا رول نمبر 30 تھا، ایک دن ان کے ایک جملے پر ناراض ہو گئی۔ انور مسعود نے شرارت سے کہا تھا:

’ہائے وے تھرٹی!‘

لڑکی نے اسے اپنے بارے میں سمجھا اور پرنسپل سے شکایت کر دی۔ وضاحت طلب کی گئی تو انور مسعود نے معصومیت سے کہا کہ وہ سڑک پر لگا بورڈ ’ہائی وے اتھارٹی‘ پڑھ رہے تھے۔ یہ سن کر پرنسپل بے اختیار ہنس پڑے اور معاملہ وہیں ختم ہو گیا۔

بعد کے برسوں میں جب انور مسعود ایک معروف شاعر بن چکے ہوتے ہیں تو زمیندار کالج کے مشاعروں میں بار بار مدعو کیے جاتے ہیں۔ انہی محفلوں میں چوہدری فضل حسین بھی شریک ہوتے ہیں اور اپنی مخصوص پنجابی لے میں غزل سناتے ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا:

’ہُن میں اپنی پرانی غزل سناندا آں‘۔

اس پر انور مسعود فوراً بول اٹھے:

’ایہہ صرف پرانی نئیں، تاریخی غزل اے‘۔

یہ جملہ سنتے ہی مشاعرے میں قہقہوں کی لہر دوڑ گئی، اور محفل دیر تک ہنستی رہی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp