بٹ کوائن کی قیمت میں 4 فیصد کمی، 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں بدھ کے روز قریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 64,721 ڈالر پر آ گئی۔ یہ 28 فروری کے بعد بٹ کوائن کی کم ترین سطح ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ گراوٹ صرف بٹ کوائن تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر ڈیجیٹل اثاثوں کی منڈی میں فروخت کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جہاں حالیہ ہفتوں کے دوران ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ نکالنے اور بدلتے ہوئے عالمی معاشی اشاریوں نے دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹاک مارکیٹ میں فہرست شدہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETF) سے مئی کے دوران سال کی سب سے زیادہ خالص سرمایہ واپسی دیکھی گئی، جس نے پہلے سے موجود ادارہ جاتی طلب کو الٹ کر رکھ دیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی سرمایہ کاروں نے اپنی رقوم ڈیجیٹل اثاثوں سے نکال کر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی شعبے کے بہتر کارکردگی دکھانے والے حصص میں منتقل کر دی ہیں، جس کے باعث کرپٹو مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہوئی۔

ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عموماً کسی ایک وجہ سے نہیں بلکہ کئی عوامل کے مجموعے سے پیدا ہوتا ہے۔ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، شرح سود میں اضافے کے خدشات، منافع سمیٹنے کی سرگرمیاں اور قرض لے کر کی جانے والی سرمایہ کاری کی جبری فروخت قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

خصوصاً اگر سرمایہ کاروں کو مہنگائی، شرح سود یا جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے حوالے سے خدشات لاحق ہوں تو وہ نسبتاً خطرناک سمجھے جانے والے اثاثوں سے سرمایہ نکال لیتے ہیں۔ بٹ کوائن اب بھی بڑی حد تک ٹیکنالوجی حصص کی طرح ایک خطرناک سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے عالمی منڈیوں میں منفی رجحان اس کی قیمت کو متاثر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جب قیمتوں میں معمولی کمی آتی ہے تو لیوریج یعنی قرض لے کر سرمایہ کاری کرنے والے تاجروں کی پوزیشنز خودکار نظام کے تحت بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جس سے فروخت کا دباؤ اچانک بڑھ جاتا ہے اور قیمتیں تیزی سے نیچے آ سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بٹ کوائن کی حالیہ گراوٹ مختصر مدتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی مالیاتی پالیسی، شرح سود کے فیصلوں اور کرپٹو فنڈز میں سرمایہ کے بہاؤ پر مرکوز ہیں، جو آئندہ ہفتوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا