خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آپریشن دو شفٹوں میں کیا جائے گا، جبکہ رنگ روڈ پر جاری کارروائی رواں ہفتے مکمل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ آپریشن کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنانے کے لیے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کی ہفتہ وار چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔
کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود کی زیر صدارت اجلاس میں آپریشن کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک رنگ روڈ اور اندرون شہر میں 410 کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے، جبکہ تقریباً 570 دکانوں اور عمارتوں کو مسمار کیا گیا ہے۔ واگزار کرائی گئی اراضی کی مالیت تقریباً 29 ارب 50 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
کمشنر پشاور نے رنگ روڈ، جمیل چوک، ہزار خوانی، حیات آباد ٹول پلازہ، پیر زکوڑی پل اور گڑھی قمر دین سمیت دیگر علاقوں میں تجاوزات کے مکمل خاتمے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن میں مزید تیزی لائی جائے۔
اجلاس میں سٹی سرکلر روڈ پر پولیس اسٹیشن آغا میر جانی شاہ، پشتخرہ اور رحمان بابا کے تجاوز شدہ حصے مسمار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جبکہ رنگ روڈ پر گڑھی قمر دین میں سرکاری گرلز اسکول کے تجاوز شدہ حصے بھی مسمار کیے جائیں گے۔
شہر کے قبرستانوں میں قائم تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور وقف اراضی واگزار کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں قائم رکشوں اور دیگر گاڑیوں کی ورکشاپس کو رنگ روڈ منتقل کرنے، دن کے اوقات میں مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کرنے اور دکانوں کے سامنے تھڑے یا دیگر رکاوٹیں قائم کرنے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔
کمشنر پشاور نے واضح کیا کہ سرکاری اور وقف اراضی پر قبضے برداشت نہیں کیے جائیں گے، جبکہ واگزار کرائی گئی اراضی پر دوبارہ قبضے کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے آپریشن میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران اور اہلکاروں کو نقد انعامات اور اعزازات دینے کا اعلان بھی کیا۔
کمشنر پشاور کے مطابق تجاوزات کے خاتمے کا مقصد شہریوں کو کشادہ راستے، بہتر ٹریفک نظام اور صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔











