وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم نے ملاقات کی، جس میں عمران خان سے ملاقات کے انتظامات، قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس، صوبے کے مالی حقوق اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
عمران خان سے مشاورت ناگزیر قرار
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو صوبائی حکومت کے لیے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح کیاکہ بجٹ اور قومی اہمیت کے دیگر معاملات پر فیصلوں سے قبل عمران خان سے مشاورت اور ان کی منظوری ناگزیر ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اہم قومی اور سیاسی فیصلوں سے پہلے اپنی قیادت سے مشاورت کرتی ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت بھی اسی جمہوری اور سیاسی روایت پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومتی ٹیم کو عمران خان سے فوری ملاقات کے انتظامات کی ضرورت سے بھی آگاہ کیا۔
مالی حقوق میں کٹوتیوں پر تحفظات
وزیراعلیٰ نے وفاق کی جانب سے صوبے کے مالی حقوق میں مسلسل کٹوتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے مختص اے آئی پی فنڈز 37 ارب روپے سے کم کر کے 27 ارب روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی اے آئی پی بجٹ کو 66 ارب روپے سے کم کر کے 56 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کا این ایف سی حصہ گزشتہ 8 برسوں سے غیر آئینی طور پر روکا جا رہا ہے، جو وہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق وفاقی نمائندوں کے ساتھ ہر ملاقات کے بعد مسائل کے حل کے بجائے صوبے کے ساتھ مزید ناانصافیوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
گیس، گندم اور پن بجلی منصوبوں پر گفتگو
ملاقات میں پنجاب سے گندم کی فراہمی، خیبرپختونخوا کے گیس حقوق، پن بجلی منصوبوں اور دیگر بین الصوبائی معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ صوبے کی مجموعی کھپت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
آئینی حقوق پر عملدرآمد کا مطالبہ
وزیراعلیٰ نے کہاکہ سوات میں مکمل شدہ ڈیم منصوبے کے آغاز کے لیے چینی انجینیئرز کو تاحال این او سی جاری نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب خیبرپختونخوا کو گندم فراہم نہیں کرنا چاہتا تو آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی عملی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے۔ آئین بین الصوبائی تجارت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی وسائل پر ترجیحی حق کی واضح ضمانت دیتا ہے، لہٰذا اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔
بس ٹرمینل منصوبے سے متعلق یقین دہانی
وزیراعلیٰ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بس ٹرمینل کا منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے این او سی جاری نہ کیے جانے کے باعث تاحال فعال نہیں ہو سکا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بس ٹرمینل کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وفاقی ٹیم کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی
وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم نے خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات، مطالبات اور تجاویز وزیراعظم اور دیگر متعلقہ فورمز کے سامنے اٹھانے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔














