وفاقی بجٹ 27-2026 کی منظوری سے قبل حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کم ہونے کے آثار سامنے آنے لگے ہیں۔ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد مذاکراتی نشستیں ہوئیں جبکہ اتوار کی شب زرداری ہاؤس اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اہم ملاقات بھی ہوئی جس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بجٹ سے قبل حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ترقیاتی فنڈز، صوبوں کے مالی حقوق، ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کی فراہمی اور نئے ٹیکس اقدامات سمیت متعدد امور پر اختلافات موجود تھے۔ ان اختلافات کے حل کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان کم از کم 3 مذاکراتی دور ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں اس بار عوام کو کون سے ریلیف فراہم کیے جا سکتے ہیں؟
ذرائع کے مطابق زرداری ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری، ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی تقسیم، صوبوں کے مالی حصے اور مجموعی معاشی ترجیحات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمٰن، نوید قمر، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سندھ کے وزیر جام خان شورو بھی شریک تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے مالیاتی تقاضے پورے کرنے کے لیے صوبوں سے قریباً 1.7 کھرب روپے کے بجٹ سپورٹ فنڈز حاصل کرنا چاہتی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کو صوبوں سے اضافی مالی وسائل لینے، ترقیاتی بجٹ میں ممکنہ کمی اور بعض سبسڈی اقدامات پر تحفظات ہیں۔
پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق جماعت نے وفاقی بجٹ کے حوالے سے اپنی تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کر دی ہیں جن کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت اپنا باضابطہ جواب دے گی۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے اور کم از کم ماہانہ اجرت 60 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجاویز بھی دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کو اس امر پر بھی تحفظات ہیں کہ وفاقی حکومت تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے ریلیف کے اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کے-فور واٹر سپلائی منصوبہ، سکھر۔کراچی موٹروے اور دیگر ترقیاتی اسکیموں کے لیے مطلوبہ فنڈز کی عدم فراہمی اختلافات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ بعض منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں جبکہ سندھ کے اہم منصوبے نظرانداز ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تحفظات براہ راست نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے سامنے رکھے جبکہ سندھ کے وزیر جام خان شورو نے بھی صوبائی حکومت کے مؤقف پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اسحاق ڈار نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفظات کو دور کرنے اور قابل عمل تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر نیئر بخاری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی جماعت ہے اور بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت کو اتحادیوں کی حمایت درکار ہوتی ہے، اس لیے بجٹ کی تیاری کے مرحلے میں پارٹی کو اعتماد میں لینا اس کا آئینی اور سیاسی حق ہے۔
نیئر بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ بجٹ تجاویز اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے تیار ہونی چاہئیں، حکومت نے پیپلز پارٹی سے تجاویز طلب کی تھیں تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات میں مصروفیات کے باعث بعض معاملات پر تفصیلی مشاورت میں تاخیر ہوئی۔
صوبوں سے 1.7 کھرب روپے حاصل کرنے کی تجویز کے بارے میں سوال پر نیئر بخاری نے کہا کہ اس حوالے سے پارٹی کے اندر مشاورت جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا پالیسی اختیار نہیں کی گئی۔
کراچی کو وفاق کے انتظامی دائرہ کار میں لانے سے متعلق بعض حلقوں کی تجاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں اور اس کے لیے سندھ اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہوگی، جو موجودہ سیاسی صورتحال میں انتہائی مشکل دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ میں ریلیف یا مہنگائی کا طوفان؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈلاک برقرار
نیئر بخاری نے کہا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان موجود تمام اختلافات مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بات چیت اور جمہوری مشاورت پر یقین رکھتی ہے اور اگر حکومت سنجیدگی سے مذاکرات جاری رکھتی ہے تو بجٹ سمیت تمام معاملات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی بجٹ کی پیشی سے قبل حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری مشاورت آئندہ چند روز میں مزید اہمیت اختیار کر جائے گی کیونکہ بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت کو اپنے اتحادیوں کی مکمل حمایت درکار ہوگی۔













