شکر کی حد عبور کرکے شکوے کی زمین پر قدم رکھنا کچھ لوگوں کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ وہ بس ساری عمر شکر گزاری پر متعین ہوتے ہیں۔ اس سے آگے ان کے پاؤں جلتے ہیں۔
عبیداللہ عابد کو میں زیادہ مدت سے نہیں جانتا، نہ ہماری صاحب سلامت کو برسوں گزرے، نہ مجھے کوئی دوستی کا دعویٰ، نہ بچپن کے قصے مشترک، نہ جوانی کی لغزشیں ایک ساتھ۔ تین سال پہلے تعارف ہوا۔ عزیز دوست فاروق عادل نے ملوایا۔ کام کی تعریف کی۔ حسنِ سلوک کے قصیدے پڑھے۔ بس اتنا تذکرہ ہوا اور پھر گزشتہ تین برس سے ہم ایک دفتر میں ایک ساتھ۔
آج تک نہ ان کے کام کی کسی نے برائی کی، نہ دفتر کے معاملات میں انہوں نے مداخلت کی۔ نہ کوئی نماز قضا کی، نہ دفتر کے کام میں کوئی حرج ہوا۔ نہ دین سے دوری رہی، نہ دنیا کو تاراج کیا۔ نہ کسی کی شکایت کی، نہ کسی کو شکایت کا موقع دیا۔ جس جگہ بیٹھے اسی منظر میں ڈھل گئے، جن سے ملے ان کے ہو گئے۔ نہ اپنی نیکیاں دیگر احباب پر مسلط کیں، نہ اپنی پارسائی کے قصے کہے۔ بس گھل مل گئے۔ رچ بس گئے۔
عبیداللہ عابد کی ذات میں شکوہ نہیں، شکایت ان کا شیوہ نہیں۔ وہ انسانوں کو انسانوں کی طرح دیکھتے ہیں، فرشتوں کی طرح نہیں پرکھتے۔ وہ خاموش رہتے ہیں، اگرچہ گفتار پر عبور ہے۔ بات کہتے ہیں تو جھجکتے نہیں۔ اور اگر کسی موضوع سے جھجھکیں تو پھر اس موضوع پر بات نہیں کرتے۔ مذہب سے لگاؤ ہے مگر نیکیوں کی لاٹھی لے کر گشت پر نہیں نکلتے۔ حالات مشکل ہوں تو ان کے چہرے پر سکون بڑھ جاتا ہے۔ لہجے میں ملاحت آ جاتی ہے۔ اختلاف کرتے ہیں مگر بات انحراف تک نہیں پہنچتی۔
عبید صاحب کو شکر کی نعمت بڑی کثرت سے نصیب ہوئی ہے۔ وہ ہر بات پر شکر ادا کرتے ہیں۔ ہر لمحہ حالتِ شکر میں رہتے ہیں۔ ہر کسی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ شکایت ان کے لبوں پر نہیں آتی۔ شکوہ ان کا شیوہ نہیں۔ وہ بس شکر کی نعمت سے لتھڑے رہتے ہیں۔ کیسے بھی دشوار حالات کیوں نہ ہوں، ان کے ہاتھ سے نہ صبر کا دامن چھٹا، نہ شکر کی نعمت میں کوئی کمی آئی۔ نہ شکایت لبوں پر آئی، نہ کسی سے شکوہ کیا۔ بہت ہوا تو نماز پڑھی اور خدا کا شکر ادا کر دیا۔ یہی عمل ان کی ساری کاوشوں کی ابتدا تھی اور یہی ساری جدوجہد کی انتہا۔ زندگی بھر کسی بھی معاملے میں اس کے در سے تسلیم کا اذن ہو تو جشن نہیں مناتے، شکر ادا کرتے ہیں اور اس کی رضا نہ ہو تو شکوہ نہیں، صبر کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو اثبات ہے۔ وہ مایوس نہیں ہوتے، پُرامید رہتے ہیں۔ معجزوں، کرشموں کی توقع لگائے رہتے ہیں۔
لوگ بڑے شوق سے خدا سے اولادِ نرینہ مانگتے ہیں۔ عبید صاحب کو خدا نے بنا مانگے دو بیٹے دیے۔ چھوٹا چند برس کی عمر میں ایک حادثے کا شکار ہو کر خالق سے جا ملا۔ اب سب امیدیں بڑے بیٹے کے ساتھ وابستہ تھیں۔ اس کی تعلیم کب مکمل ہونی ہے؟ ملازمت کا آغاز کب ہونا ہے؟ پہلی کمائی ماں کے ہاتھ پر کب رکھنی ہے؟ اس کی شادی کے لیے رشتہ کب اور کہاں دیکھنا ہے؟ بات کہاں چلانی ہے؟ کہاں پکی کرنی ہے؟ بس یہی سوچ کا مرکز رہا۔ یہی تمام تر آرزو رہی۔
لگ بھگ دو سال پہلے ذکر ہوا کہ اکلوتے بیٹے کے کان کے پاس کچھ گلٹیاں نکل آئی ہیں۔ پوچھا تو کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے، خطرے کی کوئی بات نہیں۔ کچھ دن اور گزرے، تو کہنے لگے دم درود سے بیٹے کو افاقہ نہیں ہو رہا مگر اللہ کا بہت شکر ہے کہ دوسرے ڈاکٹروں تک پہنچنے کی استطاعت ہے۔ کچھ روز اور گزرے تو انکشاف کیا کہ ڈاکٹر بایوپسی کا کہہ رہے ہیں کہ چیک کریں کہ خدانخواستہ کوئی موذی مرض تو نہیں، مگر اللہ کا بڑا شکر ہے، اس کا امکان بہت کم ہے۔ کچھ ہفتے اور بیتے تو بتانے لگے، ہے تو کینسر مگر اللہ کا بڑا کرم ہے، لاعلاج نہیں۔ اس بات کو چند روز گزرے تھے کہ بیٹے کے پے در پے آپریشنز کے بارے میں سنا۔ پوچھا تو بتانے لگے کہ رب کی ذات کا کرشمہ دیکھیں کہ اب ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ مرض جڑ سے نکال دیا گیا ہے۔ اس صورت حال کو کچھ ہفتے گزرے تو کہنے لگے، کینسر نے دوبارہ جڑ پکڑ لی ہے۔ کان کی تکلیف سے بیٹے کا چہرہ سوج گیا ہے، درد کی شدت سے وہ چیخیں مار رہا ہے مگر شکر ہے اس ذات کا کہ اب جو دوا مل رہی ہے، اس سے مکمل شفا کا امکان ہے۔
عید پر ملاقات ہوئی تو بڑے یقین سے بتایا کہ یہاں کے ڈاکٹروں نے قریباً جواب دے دیا ہے مگر معجزے کی بات یہ ہے کہ اس موذی مرض کا علاج لاہور میں موجود ہے۔ اس کے بعد بہت دنوں تک بات نہیں ہوئی، پھر اچانک فون بجا۔ ان کا نمبر سامنے آیا تو دل سہم گیا۔ کال اٹھائی تو سسکیوں بھری آواز میں بولے، عمار بھائی، اللہ کا شکر ہے، اللہ نے اپنی امانت واپس لے لی۔ آنسوؤں میں بتا رہے تھے کہ خدا کا کتنا شکر ہے کہ آخری سانس میرے ہاتھ میں لی۔ سانس نہیں آ رہا تھا، آکسیجن لگائی تو بس دو منٹ بعد سانس کا رشتہ کسی آکسیجن سلنڈر کا محتاج نہیں رہا۔
جنازے میں شرکت عبادت ہے۔ میں عبیداللہ عابد کے بیٹے کے جنازے پر نہیں گیا۔ میں اس وقت جوان موت والے گھر پہنچا جب جنازہ اٹھ چکا تھا۔ کلمہ شہادت کی آوازیں خاموش ہو چکی تھیں۔ جگر کے ٹکڑے کو دفن کیے کئی گھنٹے گزر چکے تھے، قبر پر بکھرا عرقِ گلاب خشک ہو چکا تھا۔ مرقد پر بکھرے پھول مرجھا چکے تھے۔ پرسہ دینے والے جا چکے تھے۔ احباب، رشتہ دار رخصت ہو رہے تھے۔ آنسو بہانے والے تھک کر ہلکان ہو چکے تھے۔ چھوٹے سے کمرے کی چٹائی پر بیٹھے چند مغموم رشتہ دار تسبیح پڑھ رہے تھے۔ اسی کمرے کے ایک کونے میں بیٹھے عبیداللہ عابد خدا کا شکر ادا کر رہے تھے۔
میں جنازے پر نہ پہنچ سکا۔ اس میں سستی کا دخل نہیں، ہمت کی بات تھی۔ میں نے جس حوصلے میں ہمیشہ انہیں دیکھا، میں انہیں شکستہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ میں کسی باپ کے آنسو جوان بیٹے کی قبر پر گرتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ میں شکر کو شکوے میں بدلتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ میں ایک شاکر باپ کی امید ٹوٹتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
میں عبید صاحب سے ملا۔ دلاسہ بھی نہ دے سکا۔ بس یہی سوچتا رہا کہ انسانی ذہن میں ’امید‘ سے بڑا دھوکا کوئی نہیں۔ اس دور میں معجزوں کی توقع، کرشموں کی خواہش، اتفاقات کا امکان سب دھوکا ہے، فسوں ہے، فریب ہے۔
شکر کی حد عبور کرکے شکوے کی زمین پر قدم رکھنا کچھ لوگوں کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ وہ بس ساری عمر شکر گزاری پر متعین ہوتے ہیں۔ اس سے آگے ان کے پاؤں جلتے ہیں۔ یقین مانیے۔ عبیداللہ عابد کا تعلق بھی اسی قبیل کے لوگوں میں سے ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













