فیض احمد فیض اور ایلس فیض کے رشتے کا ایک خوب صورت پہلو ان کی کتاب دوستی تھی۔ فیض کی اسیری میں کتابیں ان کا جذباتی سہارا تھیں، میاں بیوی کی خط کتابت میں جگہ جگہ کتابوں کا تذکرہ ہے اور وہ ان کے بارے میں تبادلہ خیال بھی کرتے ہیں، فیض کے خطوط ‘صلیبیں مرے دریچے میں’ اور ایلس کے خطوط ‘ڈیئر ہارٹ’ کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔
بیروت میں اس جوڑے کے کتابوں سے تعلق کی کہانی ایلس فیض کی کتاب ‘Over my shoulder’ میں شامل مضمون ‘Books Borrowed’ میں سامنے آتی ہے۔
یہ بنیادی طور پر کتابیں مستعار لے کر انہیں نہ لوٹانے والے حضرات کا دل شکن تذکرہ ہے لیکن اس میں کتابوں کے بارے میں اور بھی قصے آگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عورت کو آسان ہدف سمجھنے والے کمزور
اس مضمون میں ایلس نے ان باعثِ آزار مہمانوں کا ذکر کیا ہے جو کتابوں کے شیلف ٹٹولتے اور پھر کتاب منتخب کرکے اسے جلد لوٹانے کا وعدہ کر کے مستعار لینے کی اجازت طلب کرتے تھے۔
ایلس اس طریقہ واردات سے بہت سی قیمتی کتابوں سے محروم ہونے کا دکھڑا بیان کرتی ہیں۔ وہ مثال کے طور پر دو کتابوں کا حوالہ دیتی ہیں۔ ایک کتاب The Smallest Room ہے جو گھر کے سب سے چھوٹے کمروں کی تاریخ ہے۔
کئی مرتبہ اسے دوبارہ پڑھنے کی خواہش نے زور مارا لیکن پھر انہیں یاد آیا کہ وہ کتاب تو کوئی چند دن کا کہہ کر ہمیشہ کے لیے لے جا چکا ہے۔
دوسری کتاب جنوبی افریقہ کے ایلن پیٹن کا ناول Cry, the Beloved Country تھی۔ یہ ناول ایک دفعہ گھر سے نکلا تو پلٹ کر نہیں آیا۔ کتاب گھر پہنچ جانے کی خواہش تو بہت تھی لیکن ان کے بقول سدا کی ڈرپوک اور بزدل ہونے کی وجہ سے واپسی کا تقاضا نہیں کیا۔ ان کو یقین تھا کہ کتاب دبا لینے والی موصوفہ نے اسے پڑھا بھی نہیں ہو گا۔
فیض صاحب کا خیال تھا کہ جو کتاب لے جاتا ہے وہ پڑھتا بھی ہو گا لیکن ایلس اس سے متفق نہیں تھیں۔ ان کی اس بات پر میاں سے بحث بھی ہو جاتی تھی۔
ایلس کے خیال میں اگر ایسا ہوتا تو کتاب اُڑا لے جانے والے حضرت کبھی تو یہ بتاتے کہ کتاب انہیں پسند آئی یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بدرالدین بدر، معروف ادیبوں کا ایک فراموش کردہ دوست
کتاب خوروں کے چرکے اپنی جگہ لیکن ایلس اپنی خوشی سے بھی کتابیں بانٹنے پر یقین رکھتی تھیں۔ ایک دو کتب خانے اور وہ سچے قاری جنہیں واقعی ان کی ضرورت ہوتی تھی ان کی عنایات سے مستفید ہوئے۔
ایلس نے لکھا ہے کہ بچیوں کی نانی انہیں باہر سے خوب صورت کتابیں بھجواتی تھیں جنہیں سی آئی ڈی والے اس بری طرح چیک کرتے کہ انہیں دیکھ کر غصہ اور رونا آتا تھا ہ۔ پھر یہ بھی ہوا کہ بچوں کی کتابیں غائب ہو کر میواسپتال کے باہر پرانی کتابوں کی ایک بڑی دکان پر پہنچ گئیں جہاں سے انہوں نے ایک روپیہ فی عدد کے حساب سے وہ تمام کتابیں خرید لیں جن پر لکھا تھا: نانی اماں کی طرف سے محبت کے ساتھ۔
ایلس نے آرٹ کے بارے میں کتابیں نیشنل کالج آف آرٹس کو دینے کے بارے میں بتایا ہے۔
فیض احمد فیض نے جلا وطنی اختیار کی تو اس سے پہلے دونوں میاں بیوی نے کتابوں کی چھانٹی کی۔ ان میں سے بہت سی کتابیں تو وہ تھیں جن سے ان کی حسین یادیں وابستہ تھیں، وہ تو کسی کو دینے کا حوصلہ نہ ہوا۔ سیاسی موضوعات پر کتابوں کا ذخیرہ فیض کے دیرینہ دوست اور مزدور کسان پارٹی کے بانی میجر اسحاق محمد کو دینے کا فیصلہ ہوا۔ ایلس فیض نے اپنی گاڑی پر یہ کتابیں فیصل آباد میں میجر اسحاق کے گھر پہنچانے کا کشٹ اٹھایا۔
1982 میں ان کے انتقال پر ایلس ان کے گھر گئیں تو وہاں الماریوں میں ان کی کتابیں بڑے سلیقے سے آراستہ تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کتابوں کا عاشق افسانہ نگار
ایلس فیض نے Over my shoulder کا انتساب میجر اسحاق محمد کے نام کیا ہے اور اس کے ساتھ ان کی شخصیت کا بھرپور تعارف بھی کرایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فیض کے دوستوں میں ان کا ذہنی رشتہ سب سے زیادہ انہی کے ساتھ تھا اور وہ انہیں بہت عزیز تھے جس کی وجہ ان کی دانش اور کمٹمنٹ تھی۔
ایلس نے لکھا ہے کہ اسحاق کی زندگی کا محور کتاب اور محروم طبقات تھے۔ وہ ان کی وسعت علمی کا حوالہ بھی دیتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میجر اسحاق محمد علم کے ان متلاشیوں کو کتابیں فراہم کیا کرتے تھے جو انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ ان کے گاؤں میں سادہ سے گھر میں ان کا زیادہ تر وقت اپنے کتب خانے میں گزرتا تھا۔ اس کتب خانے کے شیلفوں میں دانش سے بھری ضخیم کتابوں نے ایلس کو مبتلائے حیرت کر دیا تھا۔
بیروت میں فیض کے کتابوں سے تعلق پر ایلس کی رائے سے پہلے افتخار عارف کے حوالے سے یہ بتانا ہے کہ وہ فیض صاحب کو کتابیں فراہم کرنے میں مستعد رہتے تھے۔
فیض صاحب نے محمد حسن عسکری کی کتاب ‘جدیدیت یا مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ’ کا مطالعہ لندن میں افتخار عارف کے گھر شروع کیا تھا جسے انہوں نے بیروت جا کر مکمل کیا اور اس پر افتخار عارف کے نام خط میں سیر حاصل تبصرہ بھی کیا تھا۔
ایک خط میں فیض احمد فیض نے افتخار عارف کو لکھا: ‘یہاں پر صحبتِ یاراں کا بدل صرف کتابیں ہیں لیکن یہاں آکر یہ کھلا کہ صحبتِ یاراں کے بغیر کتابوں سے لطف و تمتع بھی ٹھیک سے حاصل نہیں ہوتا البتہ شعر اس سے مستثنیٰ ہے۔’
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میں ’کتابوں کے بغیر‘ بُک اسٹور، نیا تجربہ متعارف
بیروت میں کچھ من پسند کتابیں تو فیض و ایلس اپنے ساتھ لے گئے تھے لیکن وہاں کے حالات میں فیض کو تنہائی بہت ستانے لگی اور انہیں مختلف زبانوں کے اپنے پسندیدہ شاعروں کی کتابوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے ایک دفعہ ایلس کو پاکستان جاتے ہوئے کتابیں ساتھ لانے کا کہا تھا۔ اس پر انہوں نے تامل کیا کیونکہ یہ بڑی قیمتی اور بعض تو انمول کتابیں تھیں لیکن شوہر کی خوشنودی طبع کے لیے انہوں نے یہ کام کیا۔ اضافی وزن کی وجہ سے ان کا خاصا خرچہ بھی ہوا۔
فیض یہ کتابیں ملنے پر بہت خوش ہوئے تھے۔ لیکن 1982 میں اسرائیل کے بیروت پر حملے کے بعد انہیں چھوٹے سے سوٹ کیس کے ساتھ وہاں سے نکلنا پڑا۔ ایلس نے لکھا ہے کہ اپنے دوستوں، ساحل سمندر، پہاڑوں اور قدیم تاریخ کے بڑے حصے کے ساتھ ساتھ انہیں قیمتی کتابوں کو بھی بھاری دل کے ساتھ بیروت ہی میں چھوڑنا پڑا۔
ایلس نے اپنے مضمون کا اختتام کچھ یوں کیا تھا: ‘کسی دن میں ان کتابوں کو وہاں سے لانے کی کوشش کروں گی۔ یہ میرا خود سے اور اس شخص کی یاد سے وعدہ ہے جو ان کتابوں میں چھپی خوبصورتی سے بہت محبت کرتا تھا جنہوں نے اس غریب الدیار کے دلِ تنہا کی ڈھارس بندھائی تھی۔’
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













