وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا ہے کہ پنجاب این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حصے سے دستبردار نہیں ہوگا اور اگر صوبوں کے حصے میں کسی قسم کی کٹوتی کی گئی تو پنجاب اپنے آئینی حق کا بھرپور دفاع کرے گا۔
پری بجٹ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت اس وقت 100 بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن کے لیے خاطر خواہ وسائل درکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر این ایف سی میں صوبوں کے حصے میں کمی کی گئی تو اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم پنجاب اپنے وسائل کسی صورت ترک نہیں کر سکتا۔
نئے ٹیکسز کے بجائے ریلیف دینے کی کوشش
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہاکہ پنجاب حکومت زراعت اور صنعت کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے اور صنعتی شعبے کے لیے ایک بڑے پیکج پر کام جاری ہے، جس پر آئندہ تین برسوں میں اربوں روپے خرچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ایک ایسا ادارہ قائم کرنے جا رہی ہے جہاں تمام ٹیکس ایک ہی چھت تلے وصول کیے جا سکیں گے۔ ان کے مطابق حکومت کی خواہش ہے کہ ٹیکسوں میں کمی لائی جائے اور حتی الامکان نئے ٹیکس عائد نہ کیے جائیں۔
پنجاب کا بجٹ 16 جون کو پیش ہوگا
وزیر خزانہ پنجاب نے کہاکہ موجودہ حکومت دو بجٹ پیش کر چکی ہے جبکہ تیسرا بجٹ 16 جون کو پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور انہوں نے آج سے دوبارہ سرکاری امور انجام دینا شروع کردیے ہیں۔
سیلاب اور علاقائی کشیدگی سے معیشت متاثر
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہاکہ پنجاب کو سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس سے 27 اضلاع متاثر ہوئے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث بھی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے کفایت شعاری مہم شروع کر رکھی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کوئی تنخواہ نہیں لیتیں جبکہ صوبائی وزرا اور پارلیمانی سیکریٹریز کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں۔














