محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی ایک اہم اقدامات تجویز کیے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار تشویش کا باعث ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر خاندانی منصوبہ بندی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
مانع حمل اشیا پر تمام ٹیکس ختم
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے حکومت نے مانع حمل اشیا (کنٹراسیپٹوو) پرعائد تمام ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج جاری،2050 تک پاکستان کی آبادی میں کتنا اضافہ ہو جائے گا؟
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کو عام شہریوں کے لیے زیادہ آسان اور کم لاگت بنانا ہے، تاکہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔
خواتین کی فلاح اور عوامی صحت کے لیے مثبت قدم
واضح رہے کہ سینیٹری مصنوعات اور مانع حمل اشیا پر ٹیکس کے خاتمے سے خواتین کی صحت، تولیدی حقوق اور عوامی صحت کے شعبے میں مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف خواتین کی زندگی کو آسان بنائیں گے بلکہ خاندانی منصوبہ بندی کے قومی اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔
بجٹ 27-2026 میں کیے گئے ان اعلانات کو خواتین کی صحت، فلاح و بہبود اور آبادی کے مؤثر انتظام کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔














