نیویارک میں گھوڑا گاڑیوں پر پابندی کے مطالبات بڑھنے لگے، وجہ کیا ہے؟

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سنٹرل پارک میں ایک گھوڑا گاڑی سے چھلانگ لگانے کے بعد بھارتی نژاد 18 سالہ نوجوان کی ہلاکت نے شہر کی تاریخی گھوڑا گاڑیوں پر پابندی کے مطالبات کو تیز کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی نوجوان اس وقت جان کی بازی ہار گیا جب وہ ایک ایسی گھوڑا گاڑی سے اتر گیا جو ڈرائیور کے بغیر اچانک پارک میں تیزی سے دوڑنے لگی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نیو یارک: وفاقی حکام کی جانب سے سٹی کونسل ملازم کی گرفتاری، میئر ظہران ممدانی کا شدید ردعمل

یہ واقعہ مبینہ طور پر سنٹرل پارک میں گھوڑا گاڑیوں کے متعارف ہونے کے 150 سال سے زائد عرصے میں پہلی ہلاکت قرار دیا جا رہا ہے۔ سنٹرل پارک کنزروینسی اور جانوروں کے حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس صنعت کو فوری طور پر معطل کیا جائے جب تک مزید حفاظتی اقدامات نافذ نہ کیے جائیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 13 ماہ میں پارک میں گھوڑوں سے متعلق آٹھ واقعات پیش آ چکے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ گھوڑا گاڑیاں نہ صرف جانوروں پر غیر ضروری دباؤ کا باعث بنتی ہیں بلکہ شہری ماحول میں حفاظتی خطرات بھی پیدا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیو یارک میں امریکی صدر ٹرمپ کی وجہ سے فرانسیسی صدر کی گاڑی روک دی گئی، دلچسپ ویڈیو وائرل

دوسری جانب گھوڑا گاڑی انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو مکمل پابندی کی بجائے بہتر حفاظتی اقدامات اور مؤثر قواعد و ضوابط کا جواز بننا چاہیے۔

ٹرانسپورٹ ورکرز یونین نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تمام اصطبل عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں اور حفاظتی پروٹوکولز پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟

رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت گھوڑا گاڑی کا ڈرائیور مسافروں کی تصویر لینے کے لیے نیچے اترا ہوا تھا، جس کے باعث گھوڑا اچانک بے قابو ہو گیا۔

متاثرہ نوجوان اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تعلیمی سفر کے دوران نیویارک آیا تھا اور حال ہی میں یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کیا تھا۔

نیویارک سٹی کونسل نے اس واقعے کے بعد گھوڑا گاڑیوں پر پابندی کے مجوزہ بل پر جلد سماعت کا اعلان کیا ہے جبکہ شہر کے موجودہ اور سابق میئرز بھی اس صنعت کے مستقبل پر نظرثانی کے حق میں بیانات دے چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp