نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زمین شاید مرنے والے سورج کی لپیٹ میں آنے سے بچ جائے جس نے گزشتہ 15 برس سے رائج اس نظریے کو چیلنج کر دیا ہے کہ مستقبل میں سورج زمین کو نگل جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سورج کے 2 طاقتور دھماکے، زمین پر جیومقناطیسی طوفان کا خدشہ
سائنسی جریدے ایسٹرانومی اینڈ ایسٹرو فزکس میں شائع ہونے والی بلجیئم کی یونیورسٹی آف لیووَن کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق زمین تقریباً 5 ارب سال بعد سورج کی شدید حرارت سے بچتے ہوئے اس سے مزید دور جا سکتی ہے۔
تحقیق کی سربراہی ماہر فلکیات میٹس ایسلڈرز نے کی جن کے مطابق سورج کے آخری مراحل میں زمین کا مستقبل 2 متضاد قوتوں کے درمیان توازن پر منحصر ہوگا۔
سائنس دانوں کے مطابق جب سورج اپنے ہائیڈروجن ایندھن سے محروم ہو جائے گا تو وہ پہلے سرخ دیو (ریڈ جائنٹ) اور بعد ازاں اے جی بی اسٹار میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس دوران سورج کا حجم بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
تحقیق کے مطابق ایک طرف سورج کی بڑھتی ہوئی کششِ ثقل زمین کو اپنی جانب کھینچے گی جبکہ دوسری طرف مرتے ہوئے سورج سے خارج ہونے والی طاقتور شمسی ہوائیں اس کی کم ہوتی کمیت کے باعث زمین کو باہر کی جانب دھکیلنے کا سبب بنیں گی۔
مزید پڑھیے: روس میں آسمان پر ایک ساتھ 2 سورج نظر آنے کا انوکھا منظر مگر ایسا ہوتا کیوں ہے؟
میٹس ایسلڈرز کا کہنا ہے کہ زمین کا انجام اسی بات پر منحصر ہوگا کہ ان دونوں میں سے کون سی قوت غالب آتی ہے۔ اگر کشش ثقل زیادہ طاقتور ثابت ہوئی تو زمین سورج میں ضم ہو جائے گی لیکن اگر سورج کی کم ہوتی کمیت کا اثر زیادہ ہوا تو زمین اپنی موجودہ مدار سے مزید دور نکل جائے گی اور محفوظ رہ سکتی ہے۔
اس معمہ کو حل کرنے کے لیے محققین نے ایل 2 پپس نامی ایسے ستارے کا مطالعہ کیا جو مستقبل میں سورج کی ممکنہ حالت سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اسٹیفان میتھیس کے مطابق نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کششِ ثقل اور مدوجزر کا اثر پہلے کے اندازوں سے کم ہے جس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ زمین سورج سے دور جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: سورج پر پہلی بار 4 سال میں کوئی دھبہ نہیں، سائنسدان حیران
سائنس دانوں کے مطابق اگر یہ نیا ماڈل درست ثابت ہوا تو زمین اور مریخ سورج کے آخری مرحلے میں محفوظ رہ سکتے ہیں جبکہ عطارد اور زہرہ اس قدر قریب ہیں کہ وہ سورج کے پھیلتے ہوئے حجم میں سما جائیں گے اور ان کا بچنا ممکن نہیں ہوگا۔













