تیسری عالمی جنگ کا 200 فیصد خطرہ تھا، پاکستان نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا: رانا ثنا اللہ

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ 200 فیصد امکان تھا کہ ایران امریکا جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی، یہ جنگ رکوانے کے 2 ہیروز ہیں، شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرے گی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایران امریکا کے درمیان معاہدہ مستقل امن کا باعث ہوگا، یہ جنگ صرف امریکا، ایران اور اسرائیل کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ ایسی جنگ تھی جس سے تیسری جنگ عظیم شروع ہونے کے 200 فیصد امکانات تھے۔

یہ بھی پڑھیں: دستخط شدہ ایران، امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے شق وار مندرجات سامنے آگئے

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر یہ جنگ نہ روکی جاتی اور امن نہ لایا جاتا تو یہ جنگ عظیم میں تبدیل ہو جاتی اور یہ دنیا کے نقشے کو خدا نخواستہ تبدیل کر دیتی، جنگ بندی انسانیت کی بھلائی میں بہت بڑا اقدام ہے، پہلی دو عظیم جنگیں دونوں طرف کی تباہی کے بعد ختم ہوئیں، ان جنگوں میں جو جیتا اس کا بھی بہت نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہے کہ 2 فریقین جن میں ایک سپر پاور امریکا ہے، معاہدے پر اس کے صدر کے دستخط موجود ہیں اور دوسری طرف عظیم اسلامی ملک ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں، ان دونوں فریقین کے دستخط کی ویریفکیشن وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ رکوانے کے 2 ہیروز ہیں، شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرے گی، انہوں نے تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے، پاکستان کے حصے میں ایک ایسا کارنامہ آیا ہے، جس پر پوری پاکستانی قوم کو ہمیشہ فخر رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر معرکہ حق کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے دوسرے دن ہی کہا کہ ہم کسی بھی ملک کی ثالثی میں ویریفکیشن کے لیے تیار ہیں کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، ہم اقوام عالم کے سامنے خود کو پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’آزاد کشمیر میں مجموعی طور پر امن ہے‘

عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے 9 اضلاع میں سے صرف ایک ضلع راولاکوٹ میں ایک میدان میں عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور ان کے لیڈران وہاں تقاریر کرتے ہیں، آزاد کشمیر حکومت نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں وہاں بیٹھنے دیا، باقی اضلاع میں صورتحال بالکل درست ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیری مہاجرین کی اسمبلی نشستیں ختم کردیں تو بھارت اور ہم میں کیا فرق رہ جاتا ہے، رانا ثنااللہ

رانا ثنااللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بالکل ٹھیک ہے، وہاں پر الیکشن کے لیے لوگ کاغذات نامزدگی جمع کروا رہے ہیں، آج 150 کے قریب لوگوں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں، وہاں پر زندگی معمول کے مطابق اور سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔

کالعدم ایکشن کمیٹی کے کچھ لوگوں کی آڈیو لیکس اور ان کے تانے بانے بھارت سے ملنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایکشن کمیٹی کے کچھ لوگ ضرور سندور پارٹ 2 کا حصہ بنے ہوئے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر کشمیر کی تحریک کے ساتھ بڑے مخلص ہیں، بعض اوقات کچھ لوگوں کا ہاتھ پیچھے ہوتا ہے، جو معاملات کو خراب کرنے اور سازش کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کسی کو مسلح جتھوں کے ذریعے مظفرآباد پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی، رانا ثنااللہ

انہوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ اپنے معاملات کا جائزہ لیں اور پاکستان پر اعتماد کریں، جتنی قربانیاں آپ نے کشمیر کی آزادی کے لیے دی ہیں، اتنی ہی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں، پاکستان کی مسلح افواج کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں، اس وقت بھی پاکستان کی مسلح افواج میں بڑی تعداد آزاد کشمیر کے جوانوں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا، بھارت اپنا سب کچھ خرچ کرنے پر تیار ہے آزاد کشمیر میں فساد پھیلانے کے لیے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اب وہ براہ راست پاکستان سے لڑ نہیں سکتا، نہ عام جنگ لڑنے کی پوزیشن میں ہے اور نہ نیوکلیئر وار کی، کیونکہ نیوکلیئر وار میں تو سب کی تباہی ہوتی ہے، کسی کی جیت نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp