وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے واضح کیا ہے کہ پُرامن احتجاج اور لانگ مارچ ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم مسلح جتھوں کی صورت میں مظفرآباد پر قبضے کی کسی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ آزاد کشمیر کے عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن اگر کوئی گروہ اس حق کی آڑ میں اسلحے کے زور پر پیش قدمی کرنا چاہے تو ریاست اس کی اجازت نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر لاکھوں شہدا کی قربانیوں سے پروان چڑھی ہے، اس لیے کسی ایک کمیٹی کے مطالبات کی بنیاد پر ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جا سکتا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے اراکین کے حلف نامے میں پاکستان کے ساتھ الحاق کے خاتمے کا مطالبہ بھی شامل کیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ حکومت کی جانب سے مختلف نوعیت کی پیشکشیں کی گئیں، تاہم کمیٹی نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بیرونی قوتوں کی مالی معاونت اور حمایت حاصل ہے۔
ان کے بقول ایکشن کمیٹی نے اپنے ابتدائی مطالبات میں مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ شامل نہیں کیا تھا، تاہم بعد میں یہ نکتہ بھی سامنے لایا گیا۔














