چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں کشمیر، جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل نے عام انتخابات کو مؤخر کرنے کی تمام تر کوششوں اور سیاسی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست میں عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوں گے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار یعقوب اور وزیر قانون میاں عبدالوحید کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وزرا کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر 27 جولائی کو آزاد کشمیر بھر میں اعلان کردہ انتخابات کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:4جون سے قبل انتخابات کا شیڈول جاری کردیں گے، چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر
درخواست میں وزرا نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال، مختلف سیاسی، انتظامی اور سیکیورٹی وجوہات کا جواز پیش کرتے ہوئے انتخابات کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کرنے کی باقاعدہ درخواست دائر کی تھی۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ ‘موجودہ حالات کے پیش نظر انتخابی مہم اور امن و امان کے قیام کے لیے مزید وقت درکار ہے، لہٰذا الیکشن کی تاریخ کو آگے بڑھایا جائے’۔
تاہم چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے پیپلز پارٹی کے وزرا کے وفد کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ’آزاد کشمیر کے عام انتخابات 27 جولائی 2026 کو طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی‘۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ انتخابات کا بروقت انعقاد ایک آئینی ضرورت ہے، جسے کسی بھی سیاسی خواہش پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق 27 جولائی 2026 کے معرکے کے لیے تمام انتخابی سامان، پولنگ اسٹیشنز کی فہرستیں اور عملے کی تعیناتی کے مراحل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
امن و امان کا عزم
الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی اداروں کو فول پروف انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ ووٹرز بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔ ‘ہمارا مقصد آزاد، سچے اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے اور مقررہ تاریخ میں تبدیلی کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اب الیکشن کی تیاریوں پر توجہ دیں‘۔
مزید پڑھیں:انتخابات سے قبل بھارت آزاد کشمیر کو نشانہ بناسکتا ہے، عبدالرشید ترابی
چیف الیکشن کمشنر کے اس فیصلے کے بعد آزاد کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام اضلاع میں انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔













