اردو بازار سے عروسی بازار تک کا سفر

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راولپنڈی کا پرانا اردو بازار کبھی کتابوں، علم اور ادب کے حوالے سے مشہور تھا۔ یہاں دور دور سے طلبہ، اساتذہ اور کتابوں کے شوقین لوگ آتے تھے۔ لیکن اب اس بازار کی شکل تیزی سے بدل رہی ہے اور کتابوں کی دکانوں کی جگہ برائیڈل بوتیکس، کپڑوں کے شوروم اور شادی کا سامان فروخت کرنے والی دکانیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

1857ء میں قائم ہونے والا اردو بازار راولپنڈی کی پرانی تاریخ کا حصہ ہے۔ ایک وقت تھا جب یہاں نصابی کتابوں کے ساتھ ناول، رسائل، دینی اور ادبی کتابیں بھی آسانی سے مل جاتی تھیں۔ کتابوں کی دکانوں کے ساتھ پرنٹنگ پریس اور جلد سازی کا کام بھی اس بازار کی خاص پہچان تھا۔

مزید پڑھیں:ڈیجیٹل شادی کارڈ کے دور میں اب بھی اردو بازار کے روایتی کارڈ مقبول کیوں؟

بازار میں موجود بعض پرانے کتاب فروشوں کا کہنا ہے کہ پہلے کتابوں کی خریداری کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آتے تھے، لیکن اب لوگوں کی دلچسپی اور خریداری کا انداز بدل گیا ہے۔ بڑھتے اخراجات اور کم ہوتے خریداروں کے باعث کئی کتابوں کی دکانیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ ان کی جگہ کپڑوں اور شادی سے متعلق کاروبار نے لے لی ہے۔

اس تبدیلی کا اثر صرف کتابوں کے کاروبار پر ہی نہیں پڑ رہا بلکہ پرنٹنگ پریس، جلد سازی اور کتابوں سے جڑے دوسرے کام بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی پرانے کاریگر اور دکاندار کہتے ہیں کہ نئی نسل اس کام میں کم آ رہی ہے، جس سے یہ پرانا ہنر بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔

مقامی رہائشیوں اور طلبہ کا کہنا ہے کہ اردو بازار کی موجودہ صورتحال افسوسناک ہے، کیونکہ یہ جگہ صرف ایک بازار نہیں بلکہ راولپنڈی کی تاریخ اور علم سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اگر کتابوں کی دکانیں اسی طرح کم ہوتی رہیں تو آنے والی نسلیں اس بازار کو اس کی پرانی شناخت سے نہیں جان سکیں گی۔

مزید پڑھیں:اردو ادب کی اہم صنف داستان گوئی قصہ پارینہ کیوں؟

آج اردو بازار میں شادی کے کپڑوں اور دیگر سامان کی دکانیں نمایاں نظر آتی ہیں، جبکہ کتابوں کی دکانیں گنتی کی رہ گئی ہیں۔ یوں کتابوں اور علم کے لیے مشہور یہ بازار آہستہ آہستہ عروسی بازار میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اردو بازار کی پرانی پہچان کو بچایا جا سکتا ہے، یا پھر کتابوں سے جڑا یہ بازار بھی وقت کے ساتھ صرف تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائے گا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp