دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی لوگوں کو ورزش سے دور کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں طویل المدتی صحت کے مسائل اور قبل از وقت اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین ورزش کرنے والے مردوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا خطرہ دوگنا کم کرسکتی ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو شدید گرمی میں بھی محفوظ طریقے سے ورزش جاری رکھی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں شدید گرمی کے پیش نظر میچ کے ہر ہاف کے 22ویں منٹ میں اضافی واٹر بریکس دیے جا رہے ہیں جبکہ طاقتور ایل نینو موسمیاتی نظام کے باعث رواں موسم گرما میں بھی غیر معمولی گرمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی میں دوڑنا، فٹبال کھیلنا، سائیکل چلانا یا پیدل سفر کرنا نہ صرف زیادہ تھکا دینے والا ہوتا ہے بلکہ ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک طبی مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ارجنٹینا کی پونٹیفیکل کیتھولک یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات اور طرز زندگی کے محقق کرسچین گارسیا وٹولسکی کا کہنا ہے کہ بلند درجہ حرارت میں پیدل چلنا، سائیکل چلانا، ورزش کرنا اور روزمرہ کی سرگرمیاں جسم کے لیے زیادہ مشکل اور کم آرام دہ ہو جاتی ہیں۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگ ہر بار گرمی کی وجہ سے جسمانی سرگرمیاں ترک کرتے رہے تو اس کے صحت پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیے: کیا ورزش کے لیے پارک میں جانا یا جم جوائن کرنا ضروری ہے؟
ایک نئی تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے اگر جسمانی سرگرمیاں کم ہوتی رہیں تو سنہ 2050 تک دنیا بھر میں سالانہ 4 لاکھ 70 ہزار سے 7 لاکھ قبل از وقت اموات واقع ہو سکتی ہیں۔
گرمی میں جلد تھکن کیوں ہوتی ہے؟
ماہرین کے مطابق ورزش کے دوران پٹھے حرارت پیدا کرتے ہیں جسے کم کرنے کے لیے جسم پسینہ خارج کرتا ہے اور جلد کی جانب خون کی روانی بڑھا دیتا ہے۔
یونیورسٹی آف سڈنی کے ماہر اولی جے کے مطابق یہی خون پٹھوں کو آکسیجن پہنچانے کے لیے بھی درکار ہوتا ہے لیکن گرمی میں جلد کی جانب زیادہ خون جانے سے پٹھوں تک آکسیجن کی فراہمی کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث انسان جلد تھک جاتا ہے اور دل پر بھی اضافی دباؤ پڑتا ہے۔
صبح یا شام ورزش کریں
ماہرین کے مطابق گرمی سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ورزش صبح سویرے یا شام کے وقت کی جائے جب درجہ حرارت نسبتاً کم ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: لوگوں کے نام دماغ سے جلدی نکل جاتے ہیں تو یہ آسان ورزش کرلیں
اگر ممکن ہو تو ایسی جگہ ورزش کریں جہاں سایہ ہو کیونکہ براہ راست دھوپ میں درجہ حرارت سایہ دار جگہ کے مقابلے میں 12 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ محسوس ہو سکتا ہے۔
نمی پر بھی توجہ دیں
ماہرین کے مطابق صرف گرمی ہی نہیں بلکہ ہوا میں نمی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
زیادہ نمی ہونے کی صورت میں پسینہ بخارات بن کر جلدی خشک نہیں ہوتا، جس کے باعث جسم مؤثر طریقے سے ٹھنڈا نہیں ہو پاتا اور گرمی کا دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح بند کمروں یا کم ہوا والی جگہوں پر ورزش کرنے سے بھی ہیٹ اسٹریس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ورزش کا دورانیہ اور شدت کم رکھیں
شدید گرمی کے دنوں میں ماہرین ورزش کا وقت کم رکھنے، وقفے لینے اور ہلکی شدت کی ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اب روبوٹ صفائی، ورزش اور بزرگوں کی دیکھ بھال بھی کر سکتے ہیں، یہ قابل بھروسہ ہوں گے؟
کرسچین گارسیا وٹولسکی کے مطابق بعض اوقات صبح کی مختصر واک یا گھر کے اندر ہلکی پھلکی ورزش زیادہ محفوظ اور حقیقت پسندانہ انتخاب ثابت ہوتی ہے۔
وقفے کے دوران جسم ٹھنڈا کریں
امریکا کی یونیورسٹی آف کنیکٹی کٹ سے وابستہ ماہر ریبی کا اسٹرنز کے مطابق اگر ورزش کے دوران وقفہ لینا پڑے تو ٹھنڈی جگہ، سایہ یا ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں کچھ دیر آرام کریں۔
جسم کو مؤثر طریقے سے ٹھنڈا کریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف آئس پیک لگانے کے بجائے ہاتھوں اور بازوؤں کو ٹھنڈے پانی میں ڈبونا، جسم پر پانی ڈالنا یا گیلا ٹھنڈا تولیہ بازوؤں، ٹانگوں اور جسم پر رکھنا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
اولی جے کے مطابق جب جلد پر موجود پانی بخارات بنتا ہے تو وہ بالکل پسینے کی طرح جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے اور پٹھوں تک آکسیجن کی فراہمی بہتر رہتی ہے۔
ورزش سے پہلے جسم ٹھنڈا کریں
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش سے پہلے جسم کا درجہ حرارت کم کرنے سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
اس مقصد کے لیے ٹھنڈا پانی یا آئس سلش (برف ملا پانی) پینا بھی مفید قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے جسم دیر تک ٹھنڈا رہتا ہے اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
جسم کو گرمی کا عادی بنائیں
ماہرین کے مطابق اگر مسلسل 7 سے 14 دن تک مناسب احتیاط کے ساتھ گرمی میں ورزش کی جائے تو جسم آہستہ آہستہ اس ماحول کا عادی ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: کن 10 باتوں پر عمل کرکے ورزش کی عادت دوبارہ اپنائی جاسکتی ہے؟
اس عمل کے دوران جسم کا بنیادی درجہ حرارت کم ہوتا ہے، پسینہ زیادہ مؤثر طریقے سے خارج ہوتا ہے اور خون کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر گرمی میں ورزش کا سلسلہ طویل عرصے تک بند رہے تو یہ قدرتی موافقت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
کب فوراً ورزش روک دینی چاہیے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ورزش کے دوران چکر آنا، متلی، شدید تھکن، دل کی دھڑکن غیر معمولی محسوس ہونا یا جسمانی کمزوری محسوس ہو تو فوری طور پر ورزش روک کر جسم کو ٹھنڈا کرنا چاہیے۔
ریبی کا اسٹرنز کے مطابق پیشہ ور کھلاڑی بھی ہیٹ اسٹروک سے محفوظ نہیں ہوتے کیونکہ وہ اکثر اپنی جسمانی حدود سے بڑھ کر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: تھراپی کے ساتھ ساتھ ورزش اور اچھے دوستوں کی صحبت ذہنی سکون کے لیے ناگزیر ہے، زارا نور عباس
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں گرمی کی لہریں مزید عام ہوں گی اس لیے لوگوں کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ورزش کرنی ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کب، کہاں اور کس انداز سے ورزش کرنا زیادہ محفوظ ہوگا۔














