وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی دن ہے اور وہ قومی معاملات پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی پیشرفت خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن حل کی حمایت کی ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے
شہباز شریف نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں جبکہ پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خلوص نیت اور سنجیدگی کے ساتھ سفارتی کوششیں کیں، مذاکراتی عمل دن رات جاری رہا اور رات گئے تمام فریقین کے اتفاق سے مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا، جس کی بعد ازاں تمام متعلقہ فریقوں نے توثیق بھی کی۔
وزیراعظم کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے جبکہ آئندہ 60 روز کے دوران تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رہیں گے۔ ان مذاکرات میں جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل پروگرام اور منجمد اثاثوں سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قومی اسمبلی میں آمد، اپوزیشن رہنماؤں سے ان کی نشستوں پر جا کر ملاقات کی۔ pic.twitter.com/3qXsyAZWf7
— WE News (@WENewsPk) June 23, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہوئی ہے اور ملک نے امن و استحکام کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 60 روز کے اندر مفاہمتی یادداشت ایک مستقل اور دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کی امید پیدا ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے پوری قوم، پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور عالمی میڈیا نے بھی اس مثبت کردار کو نمایاں کوریج دی ہے۔
وزیراعظم نے اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا مثبت عالمی تشخص اربوں روپے خرچ کرنے سے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی صدرآج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ ایرانی صدر پاکستان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں اور اس دوران دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی امن اور استحکام سمیت مختلف امور پر اہم ملاقاتیں ہوں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی یکجہتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی پاکستان کا قابلِ فخر اثاثہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے وسائل میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ چاروں صوبوں نے باہمی تعاون اور قومی مفاد کے لیے اتفاقِ رائے کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی ترقی کسی ایک صوبے سے نہیں بلکہ تمام اکائیوں کی مشترکہ ترقی سے وابستہ ہے، اسی لیے حکومت متوازن قومی ترقی پر یقین رکھتی ہے۔
2018 سے تحقیقات کر لی جائیں۔ کیا کوئی جادوگری نہیں ہوئی تھی؟ کیا بکسے نہیں بھرے گئے تھے؟ کیا لوگوں کو پٹھے پہنا کر اسلام آباد نہیں لایا گیا تھا؟ اگر 2018 کی حکومت جائز تھی تو یہ حکومت بھی جائز ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف pic.twitter.com/oZRgMqzA9n
— WE News (@WENewsPk) June 23, 2026
انہوں نے بعض سیاسی بیانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے 2018 کے انتخابات سے متعلق شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ تمام حقائق قوم کے سامنے آئیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے قومی اتحاد کو ترجیح دینا ضروری ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور ایرانی صدر کا دورہ بھی متوقع ہے۔














