امریکی عوام کی اکثریت ایران امریکا امن معاہدے کے حق میں، سروے رپورٹ

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے کو امریکی عوام کی واضح اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ایران امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 67 فیصد امریکی شہری دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے حامی ہیں جبکہ صرف 26 فیصد نے اس کی مخالفت کی اور 7 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بھی ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایک نئے سروے کے مطابق 67 فیصد امریکی، امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے بقول امریکی عوام کی اکثریت امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے حق میں ہے۔

یہ سروے معروف ریپبلکن پولنگ ادارے فیبریزیو، لی اینڈ ایسوسی ایٹس نے 16 سے 18 جون کے دوران 1,500 افراد سے رائے لے کر تیار کیا جسے صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔

اس سے قبل کوانٹس نامی ادارے کے ایک الگ سروے میں بھی امن معاہدے کو 56 فیصد عوامی حمایت حاصل ہونے کا انکشاف ہوا تھا جبکہ سی بی ایس نیوز/یوگوو کے حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی بڑی اکثریت چاہتی ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع مزید آگے نہ بڑھائے۔

امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ جنگ بندی اور مذاکرات کا فریم ورک نافذ کیا گیا ہے تاہم حتمی معاہدے کے لیے آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں بین الاقوامی تعاون اور مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، آئل ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

معاہدے کے تحت امریکی انتظامیہ نے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے، علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر کام کرنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔

معاہدے کے مطابق ایران کو اپنی بیلسٹک میزائل صلاحیت ختم کرنے کی شرط عائد نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر خطے کے دیگر ممالک کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں تو ایران کے لیے مکمل پابندی عائد کرنا منصفانہ نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جوہری ہتھیار سب سے بڑا مسئلہ ہیں جبکہ بیلسٹک میزائل اور ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے معاملات پر بھی آئندہ مذاکرات میں بات ہوگی۔

معاہدے کی مختلف شقوں پر عمل درآمد کے لیے 30 سے 60 روز کی مدت مقرر کی گئی ہے جبکہ دستاویز میں دونوں ممالک نے باہمی رضامندی سے زیادہ سے زیادہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدہ طے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے تاریخی کامیابی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی

اگرچہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں نے امن معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کیے تاہم اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی۔ ثالث ممالک پاکستان اور قطر کے مطابق مذاکرات حوصلہ افزا پیش رفت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے جس سے حتمی معاہدے کی امید مزید مضبوط ہوئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’70 لاکھ کا نقصان ہوگیا، قرضوں تلے دب گئے ہیں‘، اسلام آباد اتوار بازار میں آتشزدگی پر متاثرہ دکاندار رو پڑا

سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیں، مکالمے اور میثاقِ جمہوریت کی روح کو بحال کرنا ہوگا، خواجہ آصف

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

ایران امریکا مذاکرات: پاکستان کی ثالثی میں 3 تکنیکی ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے، اگلے منگل یا بدھ کو مذاکرات دوبارہ ہوں گے، دفتر خارجہ

سستے اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں، کیا اب اسمارٹ فونز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

ویڈیو

پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا