اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو تاریخی سفارتی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے امن کے قیام اور تنازعات کے پرامن حل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے خیرمقدم میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر داخلہ سینیٹر محسن رضا نقوی اور وزارت خارجہ کے افسران و اہلکاروں کو مبارکباد پیش کی۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت، دور اندیش سفارت کاری اور عالمی و علاقائی امن کے لیے عزم نے پاکستان کو تنازعات کے حل میں ایک قابل اعتماد ملک کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا۔
انہوں نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر متعلقہ قیادت کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کی جانب اہم قدم ہے۔
Islamabad :18 June 2026.
Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif signed the Islamabad Memorandum of Understanding (Islamabad MoU)، as mediator.
The Islamabad MOU has been signed by President of USA Donald J. Trump and Iranian President Masoud Pezeshkian. pic.twitter.com/M0LKK9XoK8
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 18, 2026
اسپیکر قومی اسمبلی کے مطابق معاہدے کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہوئی، جبکہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران نے عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور معاشی استحکام کو متاثر کیا، تاہم مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کا حل ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے معاہدے کا دفاع، امن کا کوئی بھی معاہدہ اچھا ہوگا، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ
سردار ایاز صادق نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو پاکستان کی کامیاب ثالثی اور عالمی امن کے لیے ملک کے کردار کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دیرپا امن، علاقائی تعاون اور معاشی بحالی کی بنیاد فراہم کرے گا۔
انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور مصر سمیت دیگر ممالک کی سفارتی معاونت کو بھی سراہا اور کہا کہ ان ممالک کی کوششوں نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دی۔














