یورپ شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے اور درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے جبکہ ایسے میں ایشیا کی ایئر کنڈیشنر بنانے والی بڑی کمپنیوں کے کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں گرمی سے بچنے کی کوشش میں 40 افراد ڈوب گئے
جنوبی کوریا کی سام سنگ الیکٹرانکس اور ایل جی الیکٹرانکس، چین کی مائیڈیا اور جاپان کی مٹسوبشی الیکٹرک نے بتایا ہے کہ یورپی ممالک میں ایئر کنڈیشنرز کی طلب غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے جس سے ان کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یورپ کے برعکس ایشیا کے بڑے شہروں میں گھروں، دفاتر اور ٹرانسپورٹ میں ایئر کنڈیشننگ عام ہے تاہم یورپ میں اب بھی یہ سہولت محدود پیمانے پر موجود ہے۔ حالیہ شدید گرمی نے صورتحال بدل دی ہے اور شہری بڑی تعداد میں ٹھنڈک کے لیے ایئر کنڈیشنرز خرید رہے ہیں۔
سام سنگ کے مطابق اٹلی، اسپین اور فرانس جیسے اہم یورپی بازاروں میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران فروخت میں ڈبل ڈیجیٹس پر مشتمل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کمپنی نے کہا کہ جون کے بعد درجہ حرارت میں مزید اضافے کی توقع کے باعث گرمیوں کے موسم میں طلب مسلسل برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایل جی الیکٹرانکس نے بتایا کہ جنوبی کوریا میں اس کے ایک پیداواری مرکز کی ایئر کنڈیشنر اسمبلی لائنیں اپریل سے مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہیں تاکہ مقامی اور عالمی طلب پوری کی جا سکے۔
مزید پڑھیے: شدید گرمی میں ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ: درست رہنمائی کے لیے اسمارٹ گیجٹس متعارف
چینی کمپنی مائیڈیا نے بھی یورپ میں اپنے پورٹیبل ایئر کنڈیشنر پورٹا اسپلٹ کی غیر معمولی مانگ کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کے مطابق بعض مارکیٹوں میں طلب اتنی زیادہ رہی کہ استعمال شدہ یونٹس کی قیمتیں بھی نئے یونٹس سے زیادہ ہو گئیں۔
مائیڈیا کے مطابق مئی کے آخری 2 ہفتوں میں آنے والی گرمی کی شدید لہر نے فروخت میں زبردست اضافہ کیا جبکہ جرمنی میں آن لائن فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں 37 فیصد بڑھ گئی۔
کمپنی نے بتایا کہ اسپین اور فرانس میں ایئر کنڈیشنرز کی ترسیل میں بالترتیب 108 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں ایئر کنڈیشنرز کی بڑھتی ہوئی طلب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور صارفین کے بدلتے رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔
تاہم یورپ کے پرانے طرزِ تعمیر والے گھروں میں ایئر کنڈیشنر نصب کرنا آسان نہیں۔ کئی عمارتوں میں تنصیب پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے، جس کے لیے طویل انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔
مائیڈیا کے مطابق یورپ میں ایک ایئر کنڈیشنر کی تنصیب پر ایک ہزار ڈالر سے زائد لاگت آ سکتی ہے، جو بہت سے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یورپ میں مجموعی طور پر صرف تقریباً 20 فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشنرز موجود ہیں۔
شدید گرمی کے باعث بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو خاص مشکلات کا سامنا ہے جبکہ متعدد کمپنیاں اپنے ملازمین کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہیں۔
جاپان کی مٹسوبشی الیکٹرک نے بھی تصدیق کی ہے کہ فرانس، اسپین، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک میں ایئر کنڈیشنرز کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: گجرات میں شدید ترین گرمی کا قہر، خطرے سے دوچار ایشیائی نسل کے 8 شیر کے بچے ہلاک
عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث آئندہ برسوں میں کولنگ سسٹمز کی طلب مزید بڑھنے کا امکان ہے۔














