شدید گرمی میں ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ: درست رہنمائی کے لیے اسمارٹ گیجٹس متعارف

جمعرات 25 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہائیڈریشن پر توجہ بھی بڑھ گئی ہے۔ اب ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے اسمارٹ گیجٹس متعارف کرا رہی ہیں جو پسینے اور جسمانی سرگرمی کا تجزیہ کرکے پانی پینے کے درست وقت اور مقدار کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں گرمی سے بچنے کی کوشش میں 40 افراد ڈوب گئے

حالیہ برسوں میں ایسے اسمارٹ گیجٹس متعارف ہوئے ہیں جو جسم کے پسینے، جلد کے درجہ حرارت اور نمکیات کا تجزیہ کرکے بتاتے ہیں کہ کب پانی پینے کی ضرورت ہے۔

کچھ اسمارٹ واٹر بوتلیں بھی دستیاب ہیں جو مخصوص وقفے کے بعد روشنی یا نوٹیفکیشن کے ذریعے پانی پینے کی یاد دہانی کراتی ہیں جبکہ بعض جدید آلات پیشاب کا تجزیہ کرکے جسم میں پانی کی مقدار کا اندازہ بھی لگاتے ہیں۔

اگرچہ ماہرین ان ٹیکنالوجیز کو دلچسپ قرار دیتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی درستگی ہر صورتحال میں یکساں نہیں ہوتی، اس لیے جسم کی کیفیت کو محسوس کرنا اب بھی سب سے اہم چیز ہے۔

مزید پڑھیے: مرجانی چٹانوں کی شدید گرمی میں زندہ رہنے کی صلاحیت: موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں امید کی نئی کرن

تحقیقی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دنیا بھر میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے جس کے باعث لوگوں کی جسمانی سرگرمیوں میں کمی آ سکتی ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2050 تک ہر سال تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار سے 7 لاکھ قبل از وقت اموات صرف جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث ہو سکتی ہیں۔

گرمی میں جلد تھکن کیوں محسوس ہوتی ہے؟

ورزش کے دوران پٹھے سکڑتے ہیں اور جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اس اضافی گرمی کو خارج کرنے کے لیے جسم زیادہ پسینہ خارج کرتا ہے اور خون کا بڑا حصہ جلد کی طرف بھیج دیتا ہے تاکہ جسم ٹھنڈا ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق اس عمل کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پٹھوں تک آکسیجن پہنچانے کے لیے خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم جلد تھک جاتا ہے اور دل پر بھی اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

گرمی میں محفوظ طریقے سے ورزش کیسے کریں؟

ماہرین نے شدید گرمی میں ورزش جاری رکھنے کے لیے چند مؤثر تجاویز دی ہیں۔

صبح یا شام ورزش کریں

ماہرین کے مطابق ورزش کے لیے دن کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات، یعنی صبح سویرے یا شام کا وقت سب سے بہتر ہے۔ اگر ممکن ہو تو ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں سایہ موجود ہو، کیونکہ براہ راست دھوپ میں درجہ حرارت سایہ دار جگہ کے مقابلے میں 12 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ محسوس ہو سکتا ہے۔

صرف درجہ حرارت نہیں، نمی بھی اہم ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف گرمی ہی نہیں بلکہ ہوا میں نمی بھی جسم پر اثر انداز ہوتی ہے۔

زیادہ نمی کی صورت میں پسینہ آسانی سے بخارات میں تبدیل نہیں ہو پاتا، جس کے باعث جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پاتا اور گرمی کا دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح ہوا کی رفتار بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ بند جگہوں میں ورزش کرنے سے جسم زیادہ تیزی سے گرم ہو سکتا ہے۔

ورزش کا دورانیہ اور شدت کم کریں

اگر شدید گرمی میں ورزش ناگزیر ہو تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ورزش کا دورانیہ مختصر رکھا جائے، رفتار کم کی جائے اور وقفے وقفے سے آرام کیا جائے۔

ورزش کے دوران اگر ممکن ہو تو ٹھنڈی یا ایئرکنڈیشنڈ جگہ پر کچھ دیر آرام کریں تاکہ جسم کا درجہ حرارت کم ہو سکے۔

جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے بہتر طریقے

ماہرین کے مطابق صرف برف کی تھیلی استعمال کرنا ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا کیونکہ وہ جسم کے محدود حصے کو ہی ٹھنڈا کرتی ہے۔

اس کے بجائے ہاتھوں اور بازوؤں کو ٹھنڈے پانی میں ڈبونا، جسم پر پانی ڈالنا یا گیلا ٹھنڈا تولیہ جسم پر رکھنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پانی کے بخارات بننے سے جسم قدرتی طور پر ٹھنڈا ہوتا ہے۔

ورزش سے پہلے جسم ٹھنڈا کریں

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش شروع کرنے سے پہلے جسم کا درجہ حرارت کم کرنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

اس مقصد کے لیے برف ملا ٹھنڈا پانی (آئس سلش) پینا یا ورزش سے پہلے جسم کو ٹھنڈا کرنا جسم کو گرمی برداشت کرنے کے لیے زیادہ وقت فراہم کرتا ہے۔

جسم کو گرمی کا عادی بنائیں

ماہرین کے مطابق اگر مسلسل 7 سے 14 دن تک مناسب احتیاط کے ساتھ گرمی میں ورزش کی جائے تو جسم آہستہ آہستہ گرم ماحول سے مطابقت پیدا کر لیتا ہے۔

اس عمل کے دوران جسم زیادہ مؤثر انداز میں پسینہ خارج کرتا ہے، آرام کی حالت میں جسمانی درجہ حرارت کم رہتا ہے اور خون کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر کافی عرصے تک گرمی میں ورزش نہ کی جائے تو یہ مطابقت آہستہ آہستہ ختم بھی ہو جاتی ہے۔

جسم کے اشاروں کو نظر انداز نہ کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ورزش کے دوران چکر آنا، متلی، غیر معمولی تھکن، دل کی دھڑکن تیز ہونا یا کمزوری محسوس ہو تو فوراً ورزش روک دینی چاہیے اور جسم کو ٹھنڈا کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق پیشہ ور کھلاڑی بھی گرمی سے محفوظ نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنی جسمانی حدود سے آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہائیڈریشن ٹیکنالوجی بھی مقبول ہونے لگی

شدید گرمی کے باعث اب جدید ہائیڈریشن ٹیکنالوجی بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق جیسے جیسے دنیا میں گرمی کی شدت بڑھے گی، لوگوں کو صرف ورزش جاری رکھنے ہی نہیں بلکہ کب، کہاں اور کس انداز میں ورزش کرنی ہے اس حوالے سے بھی اپنی عادات تبدیل کرنا ہوں گی۔

مزید پڑھیں: گجرات میں شدید ترین گرمی کا قہر، خطرے سے دوچار ایشیائی نسل کے 8 شیر کے  بچے ہلاک

ان کا کہنا ہے کہ مناسب احتیاط، بروقت پانی کا استعمال، جسم کو ٹھنڈا رکھنا اور جسم کے اشاروں پر توجہ دینا ہی شدید گرمی میں محفوظ طریقے سے متحرک رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی رابطہ قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا، جے ڈی وینس

گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟

آزاد کشمیر انتخابات کے لیے مزید 5 امیدواروں کو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ جاری

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

آئی بی ایم کا نیا کارنامہ: 100 ارب ٹرانزسٹرز کی گنجائش والی ناخن جتنی چپ

ویڈیو

آزاد کشمیر انتخابات: کون سے بڑے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہوں گے؟

’پاکستان نے بطور ثالث دنیا میں امن پسندی کو تقویت دی‘، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق

کالم / تجزیہ

تجھے کون بچائے گا کالیا؟

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا