اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان کے رسمی بینکاری نظام نے 3.7 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز پروسیس کیں جن کی مجموعی مالیت 168.8 کھرب روپے رہی جبکہ ان میں سے 92 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے انجام دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ای-کامرس کے لیے نیا ٹیکس نظام متعارف، ہر ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پر ٹیکس لازمی
رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران 3.4 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں جن میں موبائل بینکنگ ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایمز، پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز اور ای کامرس پلیٹ فارمز شامل تھے۔
#SBP invites all Pakistanis, especially women to participate in the User Experience Survey on Digital Payment Services. Your insights are important for building a more inclusive and user-friendly digital payments ecosystem.
Share your feedback here:https://t.co/R5v83j2unb… pic.twitter.com/rpjIjkKqOm— SBP (@StateBank_Pak) June 24, 2026
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں مجموعی ریٹیل ٹرانزیکشنز میں 9 فیصد اضافہ ہوا جو ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
موبائل بینکنگ ایپس سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ ثابت ہوئیں، جن کے ذریعے 2.9 ارب ٹرانزیکشنز کی گئیں جن کی مجموعی مالیت 42 کھرب روپے رہی۔
برانچ لیس بینکنگ سروسز، کمرشل بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے فراہم کی جانے والی ان ایپس کے ذریعے صارفین نے رقم کی منتقلی، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی اور آن لائن و فزیکل ریٹیل اسٹورز پر خریداری جیسی سہولیات حاصل کیں۔
رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ بینکنگ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 5 فیصد جبکہ ان کی مالیت میں 19 فیصد اضافہ ہوا جو صارفین کے آن لائن مالیاتی خدمات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے فوری ادائیگیوں کے نظام راست نے بھی اپنی مضبوط کارکردگی برقرار رکھی اور سہ ماہی کے دوران 742.1 ملین ٹرانزیکشنز پروسیس کیں جن کی مجموعی مالیت 23.3 کھرب روپے رہی۔
راست کے ذریعے شخص سے شخص (پرسن ٹو پرسن) منتقلیوں کی تعداد 664 ملین رہی جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے جبکہ ان کی مالیت 18.9 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔
اسی طرح شخص سے تاجر ٹرانزیکشنز میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں یہ تعداد 36.3 ملین سے بڑھ کر 55.9 ملین ہو گئی، جو ریٹیل کاروبار میں راست کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود روایتی بینکاری نظام بھی فعال رہا۔ ملک بھر میں موجود 20,232 بینک برانچز نے 128 ملین اوور دی کاؤنٹر ٹرانزیکشنز پروسیس کیں جن کی مالیت 99.5 کھرب روپے رہی۔
#SBP has launched a survey on User Experience of Digital Payment Services to gather user-centric insights for bringing further improvement in this domain.
Share your feedback here: https://t.co/R5v83j1WxD#DigitalPayments #FinancialInclusion #Raast pic.twitter.com/ZUr2E8Qb1f— SBP (@StateBank_Pak) June 19, 2026
اسی دوران 819,397 بینکنگ ایجنٹس کے ذریعے 155 ملین ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں جن کی مجموعی مالیت 1.1 کھرب روپے رہی جس سے ملک کے دور دراز علاقوں میں مالیاتی خدمات کی فراہمی ممکن ہوئی۔
مزید پڑھیں: سینیٹ سیکرٹریٹ کا ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم قدم، اراکینِ سینیٹ کے لیے موبائل ایپ متعارف
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اعدادوشمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان تیزی سے ایک زیادہ جامع، مؤثر اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بڑھتا ہوا اعتماد مستقبل میں مالیاتی خدمات کی رسائی کو مزید وسیع بنا سکتا ہے۔














