جیو تھرمل انرجی عارضی رجحان یامستقبل کے توانائی نظام کا اہم ستون؟

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں سیاسی اختلافات کے باوجود ایک ایسا شعبہ موجود ہے جس پر امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز تقریباً متفق نظر آتی ہیں اور وہ ہے جیو تھرمل توانائی۔

جیوتھرمل توانائی کیا ہے اور او جی ڈی سی اس پرحوالے سے کیا کر رہی ہے؟

جیو تھرمل توانائی زمین کے اندر موجود قدرتی حرارت سے حاصل کی جاتی ہے اور نئی ٹیکنالوجیز کی بدولت اب سائنس دان پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی، زیادہ درجہ حرارت اور مختلف جغرافیائی مقامات سے اس توانائی کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جیو تھرمل توانائی کم کاربن اخراج، مسلسل دستیابی اور طویل المدتی توانائی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

جیو تھرمل توانائی پر بڑھتی سیاسی حمایت

امریکا میں جیو تھرمل توانائی کو ایک منفرد سیاسی حمایت حاصل ہے۔ ماحول دوست پالیسیوں کے حامی اسے کم گرین ہاؤس گیس اخراج کی وجہ سے پسند کرتے ہیں جبکہ قدامت پسند حلقے اسے توانائی کی خود کفالت اور مقامی وسائل کے استعمال کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہیں۔

امریکی سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے ارکان نے حال ہی میں ’نیکسٹ جنریشن جیو تھرمل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ‘ متعارف کرایا ہے جس کا مقصد نئی نسل کی جیو تھرمل ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور تجارتی ترقی کی حمایت کرنا ہے۔

نئی ٹیکنالوجی: اینہانسڈ جیو تھرمل سسٹمز

جیو تھرمل توانائی کی ایک نئی شکل اینہانسڈ جیو تھرمل سسٹمز کہلاتی ہے۔ اس طریقہ کار میں زمین کے اندر موجود پتھروں میں ہائیڈرولک دباؤ کے ذریعے دراڑیں پیدا کی جاتی ہیں جس کے بعد ایک کنویں سے پانی داخل کیا جاتا ہے اور دوسرے کنویں سے بھاپ یا گرم پانی حاصل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں کوئلے کے استعمال میں 32 فیصد اضافہ، توانائی کے شعبے میں توسیع کے باوجود فوسل فیولز پر انحصار برقرار

یہی تکنیک تیل اور گیس کی صنعت میں استعمال ہونے والے فریکنگ طریقہ کار سے مشابہت رکھتی ہے تاہم ماہرین کے مطابق جیو تھرمل استعمال کے ماحولیاتی اثرات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔

کولمبیا بزنس اسکول کے ماہر معاشیات گرنوٹ ویگنر کے مطابق اگرچہ زیر زمین دراڑوں کے باعث زلزلوں کے معمولی خطرات موجود ہیں لیکن قابلِ تجدید اور مسلسل دستیاب توانائی کے فوائد ان خدشات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔

زمین کو پگھلا کر توانائی حاصل کرنے کی کوشش

امریکی کمپنی کوائز ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے روایتی ڈرل کے بجائے انتہائی طاقتور ملی میٹر ویوز کے ذریعے زمین کے اندر موجود پتھروں کو پگھلا کر راستہ بنایا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی انہیں دنیا کے تقریباً ہر خطے میں انتہائی گرم جیو تھرمل وسائل تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔

کوائز کے ترجمان ہیری کیلسو کے مطابق روایتی ڈرلنگ انتہائی سخت اور گرم پتھروں میں تیزی سے ناکارہ ہو جاتی ہے جبکہ ملی میٹر ویو ٹیکنالوجی کے ذریعے بغیر ڈرل بٹ کے گہرائی تک پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے۔

پانی اور لاگت کے چیلنجز

جیو تھرمل نظام کے لیے پانی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اگرچہ ابتدائی مرحلے میں پانی کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے لیکن بعد ازاں یہی پانی بار بار نظام کے اندر گردش کرتا رہتا ہے۔

تاہم سب سے بڑا مسئلہ اب بھی لاگت ہے۔ کوائز کی جانب سے امریکا کی ریاست اوریگون میں مجوزہ منصوبے کو سنہ 2030 تک فعال بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے لیکن کمپنی تسلیم کرتی ہے کہ جیو تھرمل منصوبوں کی ابتدائی لاگت اب بھی بہت زیادہ ہے۔

جتنا زیادہ درجہ حرارت، اتنی زیادہ توانائی

ماہرین کے مطابق جیو تھرمل منصوبوں کی معاشی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک زیر زمین درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔

کوائز کا ہدف 300 سے 500 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان حرارت تک رسائی حاصل کرنا ہے کیونکہ اس درجہ حرارت پر ایک کنویں سے روایتی جیو تھرمل نظام کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

سرمایہ کاری میں اضافہ

جیو تھرمل شعبے میں سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے۔ امریکی کمپنی فیرو انرجی حال ہی میں اسٹاک مارکیٹ میں شامل ہونے والی پہلی جدید جیو تھرمل کمپنی بن گئی جس کی ابتدائی مالیت تقریباً 7.7 ارب ڈالر لگائی گئی۔

فیرو کے مطابق اس کے یوٹاہ منصوبے کی تعمیراتی لاگت تقریباً 7 ہزار ڈالر فی کلوواٹ ہے جو روایتی ایٹمی توانائی منصوبوں کے برابر ہے۔

کمپنی کی ایک نمایاں خریدار گوگل بھی ہے جو اپنے بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے جیو تھرمل بجلی خرید رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ریئر ارتھ منرلز کیا ہیں اور ان کا مصرف کیا ہے؟

اس کے علاوہ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی سرمایہ کاری کمپنی بریک تھرو انرجی بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

کیا جیو تھرمل توانائی مستقبل ہے؟

اگرچہ جیو تھرمل توانائی کے منصوبوں کو اب بھی بڑے سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی اور وقت کی ضرورت ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ محض ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ مستقبل کی توانائی کا ایک اہم ستون بن سکتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر گرنوٹ ویگنر کے مطابق تیل، گیس اور کوئلہ سیاسی بحرانوں اور جغرافیائی تنازعات سے متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ جیو تھرمل بنیادی طور پر ایک ٹیکنالوجی ہے جسے بہتر اور سستا بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن

ان کے مطابق جیو تھرمل توانائی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سے اس کی ترقی کا سفر تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے اور مستقبل میں یہ دنیا کے توانائی نظام میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp