پاکستان میں کوئلے کے استعمال میں 32 فیصد اضافہ، توانائی کے شعبے میں توسیع کے باوجود فوسل فیولز پر انحصار برقرار

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 50 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے اور توانائی کے ذرائع میں تنوع آنے کے باوجود کوئلے کے استعمال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی بحالی کے باوجود پاکستان میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ گئی، اقتصادی سروے

سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران کوئلے کا استعمال 32 فیصد سے زائد بڑھ کر 2 کروڑ 14 لاکھ 10 ہزار ٹن تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ مقدار ایک کروڑ 61 لاکھ 70 ہزار ٹن تھی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب بھی بڑی حد تک فوسل فیولز پر انحصار کر رہا ہے حالانکہ ملک بارہا صاف توانائی اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کا اعادہ کر چکا ہے۔

سروے کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ گئی جبکہ اسی عرصے میں 92 ہزار 835 گیگاواٹ آور بجلی پیدا کی گئی اور مجموعی کھپت 83 ہزار 143 گیگاواٹ آور رہی۔

قابل تجدید توانائی میں اضافہ مگر حصہ محدود

ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 49.2 فیصد حصہ تھرمل ذرائع، 23.4 فیصد پن بجلی، 20.3 فیصد قابلِ تجدید توانائی اور 7.1 فیصد جوہری توانائی کا رہا۔

مزید پڑھیے: قومی اقتصادی سروے : چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، شرح نمو 3.7 فیصد رہی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

تاہم عملی بجلی پیداوار کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ جولائی تا مارچ 2025-26 کے دوران تھرمل ذرائع سے 46.9 فیصد، پن بجلی سے 30.1 فیصد، جوہری توانائی سے 18.5 فیصد جبکہ قابل تجدید ذرائع سے صرف 4.5 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ قابل تجدید توانائی کی تنصیبات میں اضافہ ہوا ہے لیکن روزمرہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اس کا کردار اب بھی محدود ہے۔

گھریلو شعبہ سب سے بڑا صارف

بجلی کے استعمال میں گھریلو صارفین بدستور سرفہرست رہے۔ سروے کے مطابق مجموعی بجلی کھپت کا 47.4 فیصد حصہ گھریلو صارفین نے استعمال کیا جبکہ صنعتی شعبے کا حصہ 31.5 فیصد رہا۔

مزید پڑھیں: حکومت نے اقتصادی سروے 2025-26 جاری کردیا، جی ڈی پی میں اضافہ ریکارڈ

اس کے علاوہ تجارتی شعبے نے 8.4 فیصد اور زرعی شعبے نے 3.1 فیصد بجلی استعمال کی۔

گیس کی کھپت میں کمی

اکنامک سروے کے مطابق جولائی تا مارچ 2025-26 کے دوران قدرتی گیس کی یومیہ کھپت 2 ہزار 316 ملین مکعب فٹ اور ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی کھپت 613 ملین مکعب فٹ یومیہ رہی۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں قدرتی گیس کی کھپت 2 ہزار 345 ملین مکعب فٹ جبکہ آر ایل این جی کی کھپت 798 ملین مکعب فٹ یومیہ ریکارڈ کی گئی تھی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی طلب بھی بڑھتی رہی۔ جولائی تا مارچ 2025-26 کے دوران ایک کروڑ 36 لاکھ 40 ہزار ٹن پیٹرولیم مصنوعات استعمال کی گئیں جن میں 82.5 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کا رہا۔

اسی عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات بڑھ کر ایک کروڑ 36 لاکھ 40 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال یہ مقدار ایک کروڑ 31 لاکھ 70 ہزار ٹن تھی۔

جوہری توانائی کا بڑھتا کردار

پاکستان کے چھ فعال جوہری بجلی گھر، جن کی مجموعی صلاحیت 3 ہزار 530 میگاواٹ ہے، جولائی تا مارچ 2025-26 کے دوران 17 ہزار 137 ملین یونٹ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔

یہ بھی پڑھیے: چیلنجز کے ساتھ صحت کے شعبے میں بہتری، اوسط عمر 67.8 سال تک پہنچ گئی، اقتصادی سروے

ملک کی مجموعی بجلی پیداوار میں جوہری توانائی کا تقریباً 18.5 فیصد حصہ خصوصاً کم کاربن توانائی کے تناظر میں اسی شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

توانائی کا شعبہ تبدیلی کے مرحلے میں

اکنامک سروے کے اعداد و شمار مجموعی طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ بتدریج تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ایک جانب بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، پن بجلی اور جوہری توانائی کے بڑھتے کردار اور قابل تجدید توانائی کی تنصیبات میں وسعت دیکھی جا رہی ہے، تو دوسری جانب کوئلے کے استعمال میں تیز رفتار اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی طلب اور قابلِ تجدید ذرائع کی محدود عملی پیداوار یہ واضح کرتی ہے کہ ملک اب بھی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روایتی اور کاربن پر مبنی ایندھن پر نمایاں حد تک انحصار کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سلمان خان سے قربت، لارنس بشنوئی گینگ کی گلوکار گرو رندھاوا کے جمخانے پر فائرنگ

بلوچستان حکومت اور تاجربرادری کے درمیان مذاکرات کامیاب، ہڑتال 10 روز کے لیے مؤخر

مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثے کے شہدا کی نمازِ جنازہ ادا، وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت کی شرکت

حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کے ذریعے حج 2026 کے دوران 11 لاکھ 60 ہزار سے زائد عازمین کی نقل و حمل

لندن میں موبائل فون اسنیچنگ کی وارداتیں: روک تھام کے لیے ایپل اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں

ویڈیو

کالعدم ایکشن کمیٹی کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب، کیا خوفناک مطالبہ کیا گیا تھا؟

صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری، معاملہ انتہائی پیچیدہ مگر حکومت متحرک ہے، ترجمان دفتر خارجہ

بجٹ 27-2026 سے خواتین کی کیا توقعات ہیں؟

کالم / تجزیہ

 فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

اسرائیل کی ملٹری ڈاکٹرائن

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘