بچوں میں نظر کمزور ہونے کے کیسز بڑھنے لگے، ماہرین کی اسکرین ٹائم کم کرنے کی ہدایت

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات میں ماہرینِ چشم نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں کم عمری میں ہی قریب کی نظر درست مگر دور کی نظر کمزور ہونے (مایوپیا) کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات اسکرین کا زیادہ استعمال اور کھلی فضا میں کم وقت گزارنا ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، پمز نے اعلامیہ جاری کردیا

ماہرین کے مطابق گرمیوں کی تعطیلات کے بعد بڑی تعداد میں بچے دھندلا دکھائی دینے، سر درد اور آنکھوں پر دباؤ کی شکایات کے ساتھ کلینکس پہنچ رہے ہیں۔ اب وہ بچے بھی 5 یا 6 سال کی عمر میں مایوپیا کا شکار ہو رہے ہیں، جن میں پہلے یہ مسئلہ عموماً 8 سے 10 سال کی عمر میں سامنے آتا تھا۔

2024 میں شائع ہونے والی ایک عالمی تحقیق کے مطابق ہر اضافی ایک گھنٹے کے یومیہ اسکرین ٹائم سے مایوپیا کا خطرہ 21 فیصد بڑھ جاتا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے کھلی فضا میں زیادہ وقت گزارنا آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

مزید پڑھیں:ایک لاکھ سے زائد بصارت سے محروم افراد کی بینائی لوٹانے والے نیپالی ڈاکٹر کون ہیں؟

تحقیقی اندازوں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2050 تک دنیا بھر میں قریباً 74 کروڑ بچے اور نوجوان مایوپیا کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں