افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ اور تحقیقی ادارے ’ریچ‘ (REACH) نے افغانستان میں بھوک، بے گھری اور خشک سالی کے باعث عوام کی ذہنی صحت کو لاحق سنگین خطرات سے خبردار کردیا۔

27 اگست کو جاری نئی جائزہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 2 کروڑ 19 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ 2026 میں ملک کی قریباً 45 فیصد آبادی شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی، طالبان حکومت پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی شدید تنقید

رپورٹ کے مطابق شدید غذائی عدم تحفظ بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اندازاً 1 کروڑ 74 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہوگا، جن میں 47 لاکھ افراد انتہائی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہوں گے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

دوسری جانب ’لا نینا‘ موسمیاتی رجحان کے باعث افغانستان کے 12 صوبے شدید خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں اور قریباً 34 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے۔ کم برفباری، بارش میں کمی اور موسم سرما و بہار میں غیر معمولی حدت کے باعث زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم اور دریاؤں میں پانی کا بہاؤ گھٹ گیا، جس سے زراعت، مویشیوں اور پینے کے پانی تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔

خواتین اور بچوں کو زیادہ ذہنی دباؤ کا سامنا

ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت کے ماہرین کے مطابق آمدنی کے ذرائع ختم ہونے، بے گھری اور خواتین و لڑکیوں پر عائد سخت پابندیوں سمیت مسلسل بحرانوں نے افغان معاشرے پر غیر معمولی نفسیاتی دباؤ ڈال دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچے، خواتین، معذور افراد، بزرگ اور بے گھر آبادی ان حالات میں سب سے زیادہ نفسیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔

ایران اور پاکستان سے لاکھوں افغانوں کی واپسی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ایران اور پاکستان سے 26 لاکھ 10 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کی واپسی نے بنیادی سہولیات اور میزبان آبادیوں پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔

مزید پڑھیں:افغانستان سے مذاکرات پر آمادہ ہیں، دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات دکھانا ہوں گے، پاکستان

افغانستان میں جنگی باقیات اور بارودی سرنگوں (دھماکا خیز مواد) کا خطرہ بھی برقرار ہے، جہاں ایسے مواد کے باعث ہر ماہ اوسطاً 50 افراد ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انسانی امدادی ادارے 2026 میں انتہائی ضرورت مند 1 کروڑ 75 لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، جس کے لیے 1.71 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

امدادی پروگرام میں خوراک، رہائش، صحت کی سہولیات، پینے کے صاف پانی اور ذہنی و نفسیاتی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پاکستان میں موبائل فون اسمبلنگ میں 102 فیصد اضافہ، حقیقی صنعتی ترقی کی علامت ہے؟

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں