صبح کے ساڑھے سات بجے ہیں۔ سورج کی کرنیں سڑک پر چلتی گاڑی کے شیشوں سے ٹکرا رہی ہیں۔ اس گاڑی میں ایک نو سالہ خوبصورت بچہ، احمد بیٹھا ہوا ہے، جس نے سکول کی یونیفارم پہن رکھی ہے۔ اس کی گود میں مہنگا بستہ ہے اور اس بستے میں رکھے ٹفن سے تازہ بنے آملیٹ پراٹھے کی مسحور کُن خوشبو دل و دماغ کو لبھائے دیتی ہے۔
اسی سڑک کے کنارے پر ایک 12 سالہ بچہ زاہد اپنے سر پر گھاس کی ایک بڑی گٹھڑی لادے گزر رہا ہے کہ اس کی گانٹھ کھل جاتی ہے اور گھاس بکھر جاتی ہے۔ وہ تنکا تنکا اکٹھا کر کے دوبارہ اسی کپڑے میں ڈال رہا ہے اور پاس سے گزرتی گاڑی کو حسرت اور حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔
چند قدم کے فاصلے پر سڑک کے دونوں اطراف دکانیں ہیں اور ان دکانوں کے بیچ ایک آٹو ورکشاپ ہے۔ اس ورکشاپ میں استاد حمید اپنے شاگرد ذیشان کی کمر پر کوڑے برسا رہا ہے کہ اس نے بخار کے بہانے دو دن چھٹی کیوں کر لی تھی۔ وجہ لیکن ایک اور تھی؛ دراصل اس نے استاد کو شراب پیتے اور اسے بوسیدہ الماری کے نچلے خانے میں کہیں چھپاتے دیکھ لیا تھا، حالانکہ اس نے ڈر کے مارے کسی کو بتایا بھی نہیں تھا۔
ان دکانوں سے ملحقہ ایک مدرسہ ہے اور اس مدرسے میں قاری جمال اپنے حجرے میں مسواک کرتے ہوئے گرج دار لہجے میں آواز دے رہا ہے کہ اگلی باری کس کی ہے۔ ایک 13 سالہ چاند سا حامد ہاتھ میں نورانی قاعدہ لے کر داخل ہوتا ہے۔ کچھ دیر بعد حجرے سے رونے کی آواز آتی ہے مگر پھر آہستہ ہوتی جاتی ہے۔ اس کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے۔
اسی مدرسے کے عقب میں ایک حویلی ہے۔ اس حویلی کے آنگن میں نادیہ جھاڑو لگا رہی ہے کہ مالکن سامنے سے ڈانٹتی ہوئی آتی ہے۔ بچی اس کے سامنے ہاتھ جوڑ لیتی ہے کہ آئندہ تاخیر نہیں ہو گی۔ آج منا ضد کر رہا تھا کہ سکول نہیں جائے گا، اسے بہلانے میں کچھ وقت لگا۔ مگر مالکن اس کا فیصلہ مالک پر چھوڑ دیتی ہے۔
یہ سارا منظر نامہ ہمارے سماج کا ہے۔ لیکن اصل کہانی اس سے بھی درد ناک ہے۔ پاکستان کے قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) کی رپورٹ کے مطابق ہر سال چار سے پانچ ہزار بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ قصور کی ایک مقامی این جی او کے مطابق صرف 2025 میں ایسے 1956 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ بچوں کے اس ہنستے کھیلتے گلشن کی تاراجی کا ذمہ دار کون ہے؟ کہتے ہیں کہ بچپن ایک ایسی کتاب ہے جس کے سارے صفحات رنگین ہوتے ہیں، لیکن سب کے لیے ایسا نہیں ہوتا۔ اکثر لوگوں کے بچپن کی دیواریں بھی ناکام حسرتوں اور ٹوٹے خوابوں کی اینٹوں سے تعمیر ہوتی ہیں۔
ہمارے ملک کی کل آبادی کتنی ہے، اس میں بچے کتنے ہیں، ان بچوں میں سکول کتنے جاتے ہیں اور کتنے بچے سکول نہیں جا پاتے۔ ان ہوش ربا اعداد و شمار کو ایک طرف رکھیے۔
ہمارا تعلیمی نظام معیاری ہے کہ نہیں، یا ہم بچوں کو عصری تقاضوں کے مطابق تعلیم دلانے میں کامیاب ہیں کہ نہیں، کچھ دیر کے لیے اس بحث کو بھی نہیں چھیڑتے۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ جو بچے سکول نہیں جا پاتے، ان کا بچپن کیسا گزرتا ہے اور باقی ماندہ زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ہمارا موضوع وہ ننھے ہاتھ ہیں، وہ نازک کلائیاں ہیں اور وہ معصوم شکلیں ہیں جنہیں تتلیاں پکڑنا تھیں، پھولوں کو توڑنا تھا، کلیوں کو مسلنا تھا، کھلونوں سے کھیلنا تھا اور مٹی کے گھر بنانے تھے۔ مگر وہ ہاتھ لوہے کے بھاری اوزار اٹھائے ہوئے ہیں، وہ کلائیاں درانتی کے زخموں سے چھدی ہوئی ہیں اور اُن انگلیوں نے مویشیوں کی ڈور تھامی ہوئی ہے۔
ستم بالائے ستم، جن بچیوں نے ہر جمعرات کی شام ’کوکلا چھپاکی‘ یا ’ککلی ککیر‘ کھیلنا تھی، وہ مالکن سے پوچھ رہی ہوتی ہیں کہ آج کچھ خرچہ مل جائے گا، کہ امی نے کہا تھا باجی سے پیسوں کی بات ضرور کرنا۔ کتنی ہی ایسی بچیاں ہیں جو ذہین اور قابل ہونے کے باوجود کبھی گھر کی دہلیز ہی نہیں عبور کرتیں کہ ایک تو ان کے والدین کے ہاں تعلیم کی اہمیت سے ناواقفیت ہے، دوسرا کم بخت زمانہ خراب ہے۔
اگر ہم پاکستان میں بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی حفاظت پر بنے قوانین پڑھ لیں تو ہماری آنکھیں چندھیا جائیں کہ ایسا تو شاید یورپی ملکوں میں ہوتا ہو گا، لیکن عملدرآمد کا کون پوچھے گا؟ ہم تو ویسے بھی مٹی کو سونا بنا کر پیش کرنے کے پرانے کھلاڑی ہیں، اس لیے یونیسیف کو پیش کرنے کے لیے کچھ مواد تو ہونا چاہیے۔
بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے تین طبقوں کا کردار اہم ہے: ایک والدین، دوسرا اساتذہ اور تیسرا حکومت۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کی مفت تعلیم و تربیت کو یقینی بنائے اور اس اصول کو چولستان کی آخری جھونپڑی میں پانی بھرتے بچے تک برابری کی بنیاد پر لاگو ہونا چاہیے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی سکول میں حاضری کو یقینی بنائیں، چند ہزار روپوں کے لیے اپنے بچوں کو تاریک مستقبل میں نہ دھکیلیں۔ اساتذہ کا کردار بھی ضروری ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بچے بھی سکول کی دہلیز عبور کریں تو وہ اپنا کردار نبھائیں۔
بچوں کو جبری مشقت کے عقوبت خانوں سے نکال کر سکول کی راہ دکھانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بھٹوں، کارخانوں، فیکٹریوں، ہوٹلوں اور زرعی فارموں پر پابندی لگائی جائے کہ کسی بچے کو اجرت پر نہیں رکھا جائے گا۔
دکانوں، ہوٹلوں اور ورکشاپس پر بچوں کا ٹھہرنا ممنوع قرار دیا جائے اور مدارس میں سکول طرز کی کلاسز کا اہتمام ہونا چاہیے، بچوں کے وہاں مستقل قیام کی اجازت قطعی نہیں ہونی چاہیے۔ اور یہ تمام اقدامات قانون کی کڑی نگرانی میں ہونے چاہئیں، ورنہ تو ساری زندگی ہم ہیں اور شیخ ابراہیم ذوق کا یہ نوحہ کہ:
پھول تو دو دن بہارِ جاں فزا دکھلا گئے
حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مرجھا گئے
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














