برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو باضابطہ طور پر اپنا نیا قائد منتخب کر لیا ہے جس کے بعد وہ پیر کے روز ملک کے نئے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے وزیراعظم کے لیے اینڈی برنہم کے نام پر غور، جانیں وہ کون ہیں؟
غیر ملکی میڈیا کے مطابق خصوصی پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اینڈی برنہم نے عوام سے ملک میں امید بحال کرنے اور مسائل کے عملی حل پر مبنی سیاست کا وعدہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام اور مختلف علاقوں نے بہت عرصے سے ایسی سیاست کا انتظار کیا ہے جو انہیں دوبارہ امید دے سکے اور ہم انہیں یہ امید واپس دیں گےاور میں سب کے لیے ہوں۔
اینڈی برنہم نے سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی جگہ لی ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ کئی ماہ کی سیاسی بے چینی، تنازعات اور حکومتی مشکلات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
برطانیہ میں سنہ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی تھی اس لیے پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کا نیا رہنما خودکار طور پر وزیراعظم بنتا ہے اور اس کے لیے نئے عام انتخابات کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اینڈی برنہم صرف چار ہفتے قبل 9 برس کے وقفے کے بعد دوبارہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے اور اسی مقصد کے ساتھ قومی سیاست میں واپس آئے تھے کہ وہ لیبر پارٹی کی قیادت سنبھال سکیں۔
پیر کے روز حلف اٹھانے کے بعد اینڈی برنہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران برطانیہ کے 7ویں وزیراعظم بن جائیں گے۔ لیبر پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کا خیال ہے کہ وہ نائجل فراج کی قیادت میں قائم امیگریشن مخالف جماعت ریفارم یو کے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے سنہ 2029 کے متوقع عام انتخابات کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: میئر لندن صادق خان برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے تاحیات رکن نامزد
مسلسل 3 مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر منتخب ہونے کی وجہ سے اینڈی برنہم کو ’کنگ آف دی نارتھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی اہم پالیسی ملک کے مختلف شہروں کو زیادہ اختیارات منتقل کرنا ہے تاکہ برطانیہ کی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت وہ شمالی انگلینڈ میں ’نمبر 10 نارتھ‘ کے نام سے ایک خصوصی حکومتی دفتر بھی قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 دہائیوں کے دوران، خصوصاً سنہ 1980 کی دہائی کے بعد برطانیہ کے وہ علاقے جو لیبر پارٹی کی بنیاد سمجھے جاتے تھے مناسب توجہ سے محروم رہے جبکہ دیہی اور ساحلی علاقوں کو بھی نظرانداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے ایک نئی راہ اختیار کی جائے۔
اینڈی برنہم جو لیبر پارٹی کے نسبتاً معتدل بائیں بازو کے دھڑے سے تعلق رکھتے ہیں عوامی خدمات پر ریاستی کنٹرول بڑھانے اور صنعتوں کی بحالی کے حامی ہیں۔
وہ اس سے قبل سال 2010 اور سال2015 میں بھی لیبر پارٹی کی قیادت حاصل کرنے کی کوشش کر چکے تھے تاہم دونوں مرتبہ ناکام رہے۔ اس بار انہیں کسی امیدوار کی جانب سے چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اینڈی برنہم سنہ 2001 سے سنہ 2017 تک رکن پارلیمنٹ اور مختلف ادوار میں برطانوی حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے خود کو عوامی مسائل سے جڑے رہنما کے طور پر منوایا اور سوشل میڈیا پر بھی خاصی مقبولیت حاصل کی۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں مہاجرین کی کفالت کی نئی اسکیمیں متعارف کرانے کا اعلان
پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے مسائل کے حل پر توجہ دی جائے اور ان بنیادی مسائل کو حل کیا جائے جنہیں برسوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
نئے وزیراعظم کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟
اینڈی برنہم نے عوامی رہائش گاہوں کی تعمیر میں اضافہ، بے گھری کے بحران پر قابو پانے اور سماجی نگہداشت کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔
دوسری جانب انہیں اقتدار سنبھالتے ہی متعدد بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں سست روی کا شکار معیشت، حکومتی قرضوں کی بلند لاگت، غیر قانونی تارکین وطن کی آمد اور ریفارم یو کے کی بڑھتی ہوئی سیاسی مقبولیت شامل ہیں۔
اس کے علاوہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں بھی ان کی حکومت کے لیے اہم خارجی چیلنجز سمجھی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان
اینڈی برنہم پیر کے روز بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کے سنہ 2024 کے انتخابی منشور پر عمل کرتے ہوئے بنیادی ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کریں گے تاہم دفاعی اخراجات کے منصوبے میں موجود 4.7 ارب پاؤنڈ کے مالی خلا کو پُر کرنے اور فلاحی نظام میں اصلاحات جیسے اہم مسائل کا حل بھی انہیں تلاش کرنا ہوگا۔














