دھڑکتے دل کا فون

بدھ 15 جولائی 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ کالم چوبیس ستمبر دو ہزار پندرہ کو روزنامہ ’جنگ‘ میں شائع ہوا تھا۔  اس سے چند روز پہلے بڈھ بیر کیمپ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا۔ ہم تک صرف یہ خبر پہنچی کہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ کیمپ محفوظ رہا لیکن اس حفاظت کے پیچھے جس رونگٹے کھڑے کر دینے والی جرأت، شجاعت اور دلیری کا مظاہرہ کیا گیا، وہ ناقابلِ یقین اور ناقابلِ فراموش ہے۔

اس حملے میں نوجوان کپتان اسفند یار شہید ہوئے۔ ان کی جرأت کی داستان اس تحریر میں رقم ہے۔ اللہ کے ان سپاہیوں کو آخری لمحوں میں جان کی پروا نہیں تھی، سب کو پاکستان کی فکر تھی۔

یہ تحریر دوبارہ اس لیے چھاپنے کی ضرورت پیش آئی کہ جمعیت علمائےا سلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے چند روز پہلے کہے گئے ایک جملے نے جہاں پوری قوم کا دل دکھایا، وہاں شہدا کے خاندانوں کی بھی دل آزاری کی۔

میرے اس کالم کے ذریعے جانیے کہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے سے پہلے شیر جوان کس لازوال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

دنیا کے کسی اور ملک میں یہ سچی کہانی معرضِ وجود میں آتی تو اس پر فلمیں بنتیں، کتابیں لکھی جاتیں۔

’پشاور سے نو کلومیٹر کے فاصلے پر بڈھ بیر کا تربیتی کیمپ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ ڈومیسٹک کیمپ کہلاتا ہے اور دوسرا رہائشی علاقہ، جس میں تربیت لینے والے افسران عارضی طور پر اور کچھ افسران مستقل رہائش پذیر ہوتے ہیں۔

اٹھارہ ستمبر دو ہزار پندرہ کی صبح پانچ بج کر تیرہ منٹ پر دہشتگردوں نے اپنی کارروائی کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے راکٹ لانچر سے حفاظتی گیٹ اڑا دیا گیا۔ پانچ دہشتگرد ڈومیسٹک کیمپ کی طرف چلے گئے اور نو نے رہائشی علاقے کا رخ کیا۔ دہشتگردوں کے پاس اسلحے کا انبار اتنا بڑا تھا کہ یہ سانحہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ بن سکتا تھا۔ ڈومیسٹک کیمپ کی طرف جانے والوں میں سے ایک نے مسجد کی راہ لی اور خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز نمازیوں پر گولیوں کی بارش کر دی۔ نمازیوں کو شہید کر کے تین دہشتگردوں نے جوانوں کی بیرکوں کی راہ لی۔ یہ سفاک لوگ بیرکوں میں گھس کر ہینڈ گرنیڈ پھینکتے رہے۔ دوسری طرف نو دہشتگرد رہائشی علاقے کی طرف بڑھے اور ان میں سے چند کو سیکیورٹی پر تعینات جوانوں نے موقع پر ہی ہلاک کیا، باقی ماندہ فائرنگ کرتے ہوئے رہائشی علاقے کی طرف بڑھے۔

جونیئر ٹیکنیشن شان ایک شیر کی طرح اپنے مورچے سے نکل کر ان کے تعاقب میں بھاگا اور وہیں کچھ ظالموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ اسی دوران اس کے بدن میں بے شمار گولیاں لگیں اور قوم کے اس بیٹے نے موقع پر بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر لیا۔

دہشتگردوں کے حملے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج کا کوئیک رسپانس یونٹ حرکت میں آ گیا۔ میجر حسیب اور کیپٹن اسفند یار صرف پانچ منٹ میں موقع پر پہنچ گئے۔ میجر حسیب صورتِ حال کا جائزہ لے رہے تھے کہ کیپٹن اسفند یار نے مسکراتے ہوئے کہا کہ چھوڑیں سر، ان کے لیے تو میں اکیلا ہی کافی ہوں، اور یہ کہتے ہوئے ان بیرکوں میں جا گھسے جن میں چھپ کر دہشتگرد ہینڈ گرنیڈ پھینک رہے تھے۔ شیر کی طرح کیپٹن اسفند یار ان بیرکوں میں گئے اور دو دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔ اس دوران چار گولیاں آپ کے جسم پر لگیں۔ ایک گولی ٹانگ میں اور تین شیر جوان کے سینے میں پیوست ہو گئیں۔

کیپٹن اسفند یار نے فائرنگ نہ روکی کہ اسی اثنا میں تیسرے دہشتگرد نے اس بہادر جوان پر ہینڈ گرنیڈ پھینک دیا، جس کے بارود نے اسفند یار شہید کے جسم کو چھلنی کر دیا۔ اس موقع پر بھی قوم کے شہید بیٹے نے فائرنگ کا سلسلہ نہ روکا، تاوقت یہ کہ تیسرا دہشتگرد بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ بہادری کے ان لازوال کارناموں سے لمحوں میں کیمپ دہشتگردوں سے پاک ہو گیا۔ کیپٹن اسفند یار شہید کو فوری طور پر کیمپ میں موجود ایمرجنسی روم میں لایا گیا۔ وہاں میجر حسیب خود زخمی حالت میں موجود تھے؛ ایک گولی ان کی ٹانگ میں لگی تھی۔ لہو لہو بدن کے ساتھ کیپٹن اسفند یار ابھی ہوش میں تھے۔ انہوں نے میجر حسیب کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا: سر، میں نے کہا تھا نا کہ ان کے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ اس جملے کے کہنے کے ساتھ ہی نبض ڈوب گئی۔ دل کی دھڑکنیں بتانے والا مانیٹر خاموش ہو گیا۔

عین اسی لمحے کیپٹن اسفند یار شہید کی جیب میں رکھا موبائل بجنے لگا۔ ایک ساتھی نے جب شہید کی جیب سے موبائل نکالا تو شہید بیٹے کی ماں کا فون مسلسل آ رہا تھا۔ اسفند یار شہید اس لمحے رفعتوں کی نئی منزلوں کی طرف عازمِ سفر ہو چکے تھے، انہوں نے دھرتی ماں کی حفاظت کی قسم کھائی تھی، وہ اپنا یہ عہد پورا کر چکے تھے۔ شہید بیٹے کی ماں کے دل کو جانے کیسے اس سفر کی خبر ہو چکی تھی۔ شاید اس لیے کہ مائیں بچوں کے ہر زخم کو اپنے دل پر سہتی ہیں۔

تو یہ جو اس ملک میں ہم سکھ کا سانس لے رہے ہیں، روز صبح خیریت سے اٹھتے ہیں، دن بھر کے کام زندہ رہ کر کرتے ہیں، تو دراصل یہ صلہ ہے ان شہیدوں کی وطن سے محبت کے جنون کا، ان پاک جسموں کے خون کا، دھڑکتے دلوں والی ماؤں کے فون کا۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کے والد جارج میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

سینیئر اداکارہ روبینہ اشرف کا خواتین کے شوہر اور سسرالیوں کے لیے اہم پیغام

دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

حکومت سے مذاکرات ناکام، گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کردیا

آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ ٹیم چیمپیئن شپ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی، سلور میڈل جیت لیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر