بھارتی ریاست گجرات کے ضلع پٹن میں معمولی رقم کے تنازع پر انسانیت سوز واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر ایک شخص نے 5 ہزار روپے قرض واپس کرنے میں تاخیر پر اپنی بیوہ ہمسائی کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں خاتون دوران علاج جان کی بازی ہار گئی۔
پولیس کے مطابق واقعہ ضلع پٹن میں پیش آیا، جہاں 35 سالہ پنکی بین پتنی نامی خاتون کو شدید جھلسنے کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ خاتون 2 بچوں کی ماں تھیں اور تقریباً 7 سال قبل ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ شوہر کی وفات کے بعد وہ اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی زندگی گزار رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے سالگرہ کے دن بیوی کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار نے سروس پستول سے اپنی زندگی بھی ختم کر لی
خاتون کے اہل خانہ کے مطابق پنکی بین نے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے تقریباً ایک ماہ قبل اپنے ہمسائے بابو بھائی روال سے 5 ہزار روپے ادھار لیے تھے۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ ملزم رقم واپس کرنے کے لیے خاتون پر مسلسل دباؤ ڈال رہا تھا اور مبینہ طور پر سود سمیت رقم کا مطالبہ کر رہا تھا۔
بیٹی نے واقعے کی تفصیلات بتا دیں
پولیس کو دیے گئے بیان میں مقتولہ کی بیٹی نے بتایا کہ اس کی والدہ نے بابو بھائی سے مزید 2 دن کی مہلت مانگی تھی تاکہ وہ رقم واپس کر سکیں، تاہم ملزم نے انکار کر دیا۔
بیٹی کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ چائے لے کر آتا ہے اور دونوں بیٹھ کر بات کریں گے، لیکن کچھ دیر بعد واپس آ کر اس نے پیٹرول چھڑک کر والدہ کو آگ لگا دی۔
پولیس کے مطابق واقعے کے وقت پنکی بین اپنے ہمسائے کے بھائی جیتو بھائی پنچال سے بات کر رہی تھیں کہ اچانک بابو بھائی وہاں پہنچا اور مبینہ طور پر ان پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ آگ لگانے کے دوران ملزم بھی جھلس گیا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس نے خاتون کا بیان ریکارڈ کیا
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پریش رینوکا کے مطابق 12 جولائی کو دھرپور سول اسپتال کی انتظامیہ نے پٹن سٹی اے ڈویژن پولیس اسٹیشن کو اطلاع دی کہ پنکی بین کو شدید جھلسنے کی حالت میں اسپتال لایا گیا ہے۔
پولیس نے خاتون کی حالت مزید خراب ہونے سے پہلے ان کا بیان ریکارڈ کر لیا تھا، جس کی بنیاد پر واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ’دلہا بکتا ہے بولو خریدوگے‘: بھارت میں جہیز کے نام پر قتل کیوں عام ہیں؟ شرمناک وجوہات
پنکی بین کو ابتدائی طبی امداد کے لیے دھرپور سول اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں احمد آباد سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔














