بھارت کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کڈن کلم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق ہزاروں حساس دستاویزات مبینہ طور پر سائبر حملے کے نتیجے میں افشا ہو گئی ہیں، جن میں پلانٹ کے مختلف حصوں کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، معائنے کی رپورٹس اور دیگر اہم معلومات شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معروف رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس (World Leaks) نے ڈارک ویب پر بڑی تعداد میں فائلیں جاری کی ہیں، جنہیں گروپ نے بھارت کے معروف کاروباری ادارے ریلائنس گروپ سے منسلک قرار دیا ہے۔
کڈن کلم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں واقع ہے اور یہ بھارت کے 7 بڑے جوہری بجلی گھروں میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں جوہری توانائی کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ریلائنس نے ڈیٹا لیک کی تصدیق کر دی
ریلائنس گروپ نے رائٹرز کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ تھرڈ پارٹی بھارتی ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والے ادارے یوتا (Yotta) کے سرور پر موجود اس کے ڈیٹا کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے اور اس واقعے سے حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ کون سا ڈیٹا لیک ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں ٹاٹا کی آئی فون پرزہ ساز فیکٹری ماحولیاتی اور صحت سے متعلق تحقیقات کی زد میں آگئی
رائٹرز کے مطابق اس نے ورلڈ لیکس کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا، جو 2016 سے 2025 کے وسط تک کی تاریخوں پر مشتمل ہیں، تاہم ان کی مکمل صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔
رپورٹ کے مطابق جاری کی گئی تقریباً 19 ہزار فائلیں ورلڈ لیکس ویب سائٹ پر موجود ریلائنس کی مجموعی 8 لاکھ 58 ہزار فائلوں میں سب سے زیادہ حساس دکھائی دیتی ہیں۔
پلانٹ کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ
نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کے مطابق اس نوعیت کا ڈیٹا لیک جوہری پلانٹ کی حفاظت کے لیے ’سنگین خطرہ‘ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی معلومات کسی مخالف کو نہ صرف یہ بتا سکتی ہیں کہ منصوبے تک رسائی رکھنے والے ادارے کون ہیں بلکہ یہ بھی واضح کر سکتی ہیں کہ کون سے نظام کس حد تک رسائی میں آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معلومات غلط ہاتھوں میں پہنچ جائیں تو حملہ آور پلانٹ کے معاون نظام، سپلائرز اور سکیورٹی نظام میں ممکنہ کمزوریوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
کون سی معلومات افشا ہوئیں؟
رپورٹ کے مطابق ڈارک ویب پر جاری فائلوں میں مبینہ طور پر یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹم کے نقشے، ایک ’مشترکہ کنٹرول روم‘ کا مکمل فلور پلان، سپلائرز کی فہرست، آلات کے معائنے کی رپورٹس، میٹنگ ریکارڈز، انشورنس پالیسیوں کی تفصیلات، آلات کی تصاویر اور جائزہ رپورٹس شامل ہیں۔
تاہم یہ دستاویزات جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی نظام سے متعلق نہیں لگتیں، کیونکہ ری ایکٹرز روس کی سرکاری کمپنی روس ایٹم (Rosatom) فراہم کر رہی ہے۔
یونٹ 3 اور 4 کی تعمیر جاری
ریلائنس انفراسٹرکچر کو 2018 میں کڈن کلم پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے لیے انفراسٹرکچر ڈیزائن اور تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔
یہ دونوں یونٹس تاحال زیر تعمیر ہیں اور 2027 تک فعال ہونے کا امکان ہے۔ دونوں یونٹس سے مجموعی طور پر 2000 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: چھتیس گڑھ کے پاور پلانٹ میں دھماکا، 9 افراد ہلاک
ذرائع کے مطابق بھارت کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن، جو ملک کے جوہری بجلی گھروں کی نگرانی اور آپریشن کرتی ہے، ریلائنس کے ساتھ مل کر اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
بھارت کا مرکزی سائبر سکیورٹی ادارہ انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-In) بھی معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
یوتا کمپنی نے بتایا کہ 29 مئی کو ریلائنس انفراسٹرکچر کے ایک سرور پر مشکوک سرگرمی دیکھی گئی تھی، جسے فوری طور پر روک دیا گیا۔ کمپنی کے مطابق ممکنہ رینسم ویئر حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا، تاہم جون کے آخر میں ریلائنس انفراسٹرکچر نے بیرونی عناصر کی جانب سے ڈیٹا لیک کے دعوے سے آگاہ کیا۔
یوتا کا کہنا ہے کہ وہ ہیکرز کے دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا، تاہم اس نے اپنی تکنیکی تحقیقات ریلائنس کے ساتھ شیئر کر دی ہیں۔
ورلڈ لیکس پہلے بھی بڑی کمپنیوں کو نشانہ بنا چکا
ورلڈ لیکس ایک معروف رینسم ویئر گروپ ہے، جو اس سے قبل عالمی کمپنیوں، جن میں نائکی اور بھارت کا ٹاٹا گروپ شامل ہیں، کو نشانہ بنا چکا ہے۔
گروپ عام طور پر کمپنیوں سے تاوان طلب کرتا ہے اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں چوری شدہ ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیتا ہے۔
رواں سال جون میں ورلڈ لیکس نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس نے ٹاٹا گروپ سے ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان طلب کیا تھا، جس میں ایپل اور ٹیسلا کے لیے تیار کیے جانے والے حساس پرزوں کے ڈیزائن بھی شامل تھے۔
بھارت میں سائبر حملوں میں اضافہ
سائبر سیکیورٹی کمپنی سرف شارک (Surfshark) کے مطابق گزشتہ سال بھارت دنیا میں ڈیٹا لیک سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر رہا، جہاں تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ اکاؤنٹس متاثر ہوئے۔ اس فہرست میں امریکا اور فرانس بھارت سے آگے تھے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کے پاور پلانٹ پر کام کرنے والے 9 بھارتی افسران اچانک فرار، تحقیقات شروع
ڈیٹا سیکیورٹی کونسل آف انڈیا اور سائبر سیکیورٹی کمپنی سیکرائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں سروے کیے گئے 204 اداروں میں سے 73 فیصد کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کبھی سائبر حملے کا شکار ہوئے یا نہیں، جبکہ 57 فیصد اداروں میں بنیادی سائبر حفاظتی اقدامات موجود نہیں تھے۔
واضح رہے کہ کڈن کلم نیوکلیئر پلانٹ اس سے قبل بھی سائبر واقعے سے متاثر ہو چکا ہے۔ 2019 میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکر گروپ کے میل ویئر کو پلانٹ کے انتظامی نیٹ ورک پر دریافت کیا گیا تھا۔ اس وقت نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے کہا تھا کہ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ پلانٹ کے بنیادی نظام متاثر نہیں ہوئے۔













