لاہور کے علاقے بٹاپور میں واقع نجی واٹر پارک 9 سالہ بچی کے مبینہ طور پر ڈرینج پائپ میں پھنس کر جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد سیل کردیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تین انتظامی اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ پیر کے روز پیش آیا، جب واٹر پارک انتظامیہ نے مبینہ طور پر سوئمنگ پول میں موجود بچوں کو باہر نکالے بغیر پانی نکالنے کا عمل شروع کیا۔ پانی نکالنے کے لیے لگائے گئے طاقتور پمپ کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ سے نو سالہ بچی ڈرینج پائپ میں چلی گئی اور پھنس گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں منرل واٹر کے غیرمعیاری اور مضر صحت برانڈز کونسے ہیں؟ فہرست جاری
ریسکیو ٹیموں نے تقریباً 40 سے 50 منٹ کی کوشش کے بعد بچی کو پائپ سے نکالا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے واٹر پارک کو سیل کر دیا اور تمام سرگرمیاں معطل کر دیں۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق پارک کو واقعے کے روز ہی سیل کر دیا گیا تھا جبکہ مبینہ غفلت پر انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس نے بٹاپور تھانے میں بچی کی والدہ کی درخواست پر مقدمہ درج کیا ہے۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت درج کیا گیا، جس کا تعلق بغیر ارادے کے موت کا سبب بننے سے ہے۔
درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ بچی واٹر پارک انتظامیہ کی غفلت کے باعث جاں بحق ہوئی۔ مقدمے میں پارک کے منیجر، سیکیورٹی انچارج اور سی سی ٹی وی انچارج کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں شدید گرمی کی لہر، سوئمنگ پولز کی مانگ میں اضافہ
پولیس حکام کے مطابق تینوں نامزد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ غفلت کی نوعیت کا تعین کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ بچوں کی موجودگی کے دوران پول خالی کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا اور ڈرینج پائپ کے گرد حفاظتی اقدامات مکمل تھے یا نہیں۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔












