ایران کی اندرونی طاقتوں میں کشمکش کے اثرات پوری دنیا بھگت رہی ہے، سینیئر صحافی محمد عاطف

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں مقیم سینیئر صحافی محمد عاطف نے کہا ہے کہ ایران میں ایک جانب منتخب حکومت موجود ہے جبکہ دوسری جانب ایک ایسا قدامت پسند طاقتور حلقہ بھی ہے جو حکومت کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آتا اور اپنی مرضی سے فیصلے کررہا ہے۔ ان کے بقول حالیہ کشیدگی کے پیچھے بھی یہی طاقتور حلقہ دکھائی دیتا ہے، جس کے نتائج صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورا خطہ اور دنیا بھگت رہی ہے۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد عاطف نے کہاکہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی، اور آبنائے ہرمز بند رہی تو خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جو پوری دنیا کے لیے ایک معاشی تباہی ثابت ہوگی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ

ٹرمپ کی ایران ڈیل پر امریکا میں شدید تنقید

محمد عاطف نے کہاکہ امریکا میں ایران کے ساتھ ہونے والی ڈیل پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو بہت زیادہ رعایتیں دے دیں، جن میں منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کرنا اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکی نظام میں حتمی فیصلہ صدر ہی کرتا ہے، کانگریس اور عدالتیں فیصلوں کو چیلنج تو کر سکتی ہیں لیکن فوج کو احکامات صرف وائٹ ہاؤس سے ہی ملتے ہیں۔

ان کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اس معاہدے پر شدید تنقید ہوئی اور بعض سینیٹرز نے یہاں تک کہاکہ صدر ٹرمپ نے سب کچھ ایران کے حوالے کردیا۔

’مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کو نقصان کا خدشہ‘

محمد عاطف نے کہاکہ ریپبلکن پارٹی کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے آئندہ مڈٹرم انتخابات میں اسے سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ یہ جنگ غیر ضروری تھی جبکہ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ امریکا نے اسرائیل کی جنگ لڑی ہے، اپنی نہیں۔

انہوں نے کہاکہ امریکا میں اب اسرائیل کی جنگ، اس کی فنڈنگ اور ایران کے خلاف کارروائی پر کھل کر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جو ماضی میں قریباً ناممکن تصور کیے جاتے تھے۔

’ایران میں بھی اندرونی اختلافات موجود ہیں‘

محمد عاطف نے کہاکہ ایران کے اندر بھی طاقت کے مراکز میں اختلافات دکھائی دیتے ہیں۔ منتخب حکومت امن معاہدے کی خواہاں ہے کیونکہ وہ عوام کو جواب دہ ہے، جبکہ سپریم کونسل براہ راست عوام کے سامنے جواب دہ نہیں، جس کی وجہ سے مختلف فیصلوں میں اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

’کانگریس میں ڈیموکریٹس کی واپسی کا امکان‘

انہوں نے کہاکہ موجودہ تجزیوں کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کر سکتے ہیں، جس کے بعد اسپیکر بھی ڈیموکریٹس کا ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو صدر ٹرمپ کے لیے آئندہ 2 برس انتہائی مشکل ہو جائیں گے کیونکہ ان کے لیے قانون سازی، تقرریاں اور دیگر اقدامات آسان نہیں رہیں گے۔

محمد عاطف نے کہاکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سینیٹ میں بھی ریپبلکنز کی اکثریت کم ہو سکتی ہے، جس سے صدر ٹرمپ کو مزید سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔

’امریکی دفاعی بجٹ پر ڈیڈ لاک، ایران جنگ پر مزید فنڈنگ کی مخالفت‘

محمد عاطف نے کہاکہ امریکا میں دفاعی بجٹ بھی ایران جنگ کے باعث سیاسی تنازع کا شکار ہو چکا ہے۔ ڈیموکریٹس نے دفاعی بل کی منظوری روک دی ہے کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت پہلے ایران جنگ ختم کرنے کا واضح منصوبہ پیش کرے، اس کے بعد مزید فنڈز مانگے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور پینٹاگون نے انہیں جنگ کے خاتمے کا کوئی قابل عمل منصوبہ نہیں دیا، اسی لیے وہ ایران جنگ کے لیے مزید مالی وسائل فراہم کرنے پر آمادہ نہیں۔

محمد عاطف کے مطابق اس بل کے ذریعے امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز بھی شامل تھی، جس کی منظوری نہ ملنے سے صدر ٹرمپ کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

’صدر ٹرمپ کے لیے ایران تنازع جلد ختم کرنا ناگزیر‘

انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایران کے ساتھ جنگ بندی یا کوئی معاہدہ طے پا جائے تاکہ نومبر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے وہ عوام کو یہ بتا سکیں کہ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع ختم کر دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران صدر ٹرمپ کو اس حوالے سے کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

’امریکا میں مہنگائی بھی ٹرمپ کے لیے بڑا چیلنج‘

محمد عاطف نے کہاکہ ایران تنازع کے باعث امریکا میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کو براہ راست متاثر کر رہا ہے کیونکہ امریکا کے بیشتر علاقوں میں لوگ ذاتی گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو کیسے قائل کریں کہ ان کی پالیسیاں عوام کے مفاد میں ہیں، جبکہ ایران تنازع جاری رہنے کی صورت میں مہنگائی پر قابو پانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

محمد عاطف نے کہاکہ موجودہ جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر سکتے ہیں جبکہ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت کم ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

’امریکا اور اسرائیل کے درمیان عوامی سطح پر فاصلے بڑھ رہے ہیں‘

محمد عاطف نے کہاکہ سیاسی سطح پر اگرچہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات بدستور مضبوط ہیں، لیکن عوامی سطح پر صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب تک اسرائیل فلسطینی علاقوں پر قبضہ برقرار رکھے گا اور فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا، امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد خصوصاً نوجوان نسل اس کی حمایت نہیں کرے گی۔

’سوشل میڈیا نے اسرائیل کا تاثر بدل دیا‘

انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا نے اسرائیل کی ایسی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی ہے جس میں اسے ایک جارح ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان امریکیوں میں اسرائیل کی حمایت میں واضح کمی آرہی ہے۔

’امریکی کانگریس رکن کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا حوالہ‘

محمد عاطف نے کہاکہ حال ہی میں ایک امریکی کانگریس رکن کے ویسٹ بینک کے دورے کے دوران اسرائیلی آبادکاروں نے ان کا راستہ روکا، جبکہ اسرائیلی پولیس نے بھی آبادکاروں کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہاکہ اس واقعے نے امریکی سیاست میں بھی کئی سوالات کھڑے کیے ہیں، اگرچہ اسرائیلی حکومت نے اس پر کارروائی کا اعلان کیا، لیکن نوجوان امریکی اس طرح کے بیانات پر یقین نہیں کرتے۔

محمد عاطف نے کہاکہ امریکا میں اسرائیل نواز تنظیم ’اے آئی پی اے سی‘ کے اثرورسوخ کے خلاف بھی کھل کر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔

’نوجوان امریکی ووٹرز کا رویہ تبدیل ہو چکا ہے‘

محمد عاطف نے کہاکہ امریکی نوجوان نسل اب اسرائیل کو پہلے کی طرح نہیں دیکھتی بلکہ اس کے اقدامات پر کھل کر تنقید کرتی ہے۔

ان کے مطابق حتیٰ کہ نوجوان یہودی امریکیوں میں بھی اسرائیلی پالیسیوں پر اختلاف بڑھ رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔

انہوں نے سابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عہدہ چھوڑنے کے بعد اعتراف کیاکہ ان کے نزدیک غزہ میں نسل کشی ہو رہی تھی، لیکن سرکاری منصب پر رہتے ہوئے وہ حکومت کا مؤقف پیش کرنے کے پابند تھے۔

’امریکی حکومت اب بھی اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے‘

انہوں نے کہاکہ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ نے عالمی فوجداری عدالت کو غیر مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کی بات کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اب بھی اسرائیل کی مکمل حمایت کررہی ہے، اگرچہ ملک کے اندر اس کے خلاف آوازیں مسلسل بلند ہو رہی ہیں۔

محمد عاطف کے مطابق امریکی معاشرے، سیاست اور عوامی رائے میں اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے انتخابات اور امریکا کی خارجہ پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی فوجداری عدالت کے خلاف امریکی مؤقف پر بھی سوالات

محمد عاطف نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کو غیر مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کی بات بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی حکومت اب بھی اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہودی نوجوانوں میں بھی اسرائیلی پالیسیوں پر اختلاف

انہوں نے کہا کہ امریکا میں نوجوان یہودی بھی اب اسرائیلی پالیسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق نیویارک کے میئر کے امیدوار زہران ممدانی کی انتخابی کامیابی اور ان کے مؤقف نے بھی امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

محمد عاطف نے کہا کہ اب ایسے امیدوار سامنے آ رہے ہیں جو کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے بجائے صرف امریکی عوام کے مفادات کے لیے کام کریں گے۔

’امریکی سیاست میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے‘

انہوں نے کہا کہ امریکی معاشرے میں اسرائیل کے حوالے سے کئی دہائیوں سے قائم بیانیہ تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ بڑی عمر کے ووٹرز اب بھی اسرائیل کو امریکا کا اہم اتحادی سمجھتے ہیں، لیکن نوجوان نسل اس مؤقف سے متفق نہیں۔

’امریکی خارجہ پالیسی پر بھی اثرات مرتب ہوں گے‘

محمد عاطف نے کہاکہ امریکی سیاست، عوامی رائے اور نوجوان ووٹرز کے بدلتے رجحانات مستقبل میں امریکا کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ اسرائیل سے متعلق روایتی سیاسی مؤقف کو اب پہلے جیسی غیر مشروط عوامی حمایت حاصل نہیں رہی۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران امن مذاکرات میں پاکستان کا بطور ثالث کردار بہت اچھے انداز سے آگے بڑھ رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے امریکا ایران جنگ کے دوران پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جسے سراہا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم آزاد کشمیر کے قافلے میں شامل پولیس گاڑی حادثے کا شکار، ایک اہلکار جاں بحق، متعدد زخمی

تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا، بلوں میں 1 روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافے کی تیاری، نیپرا میں درخواست دائر

ٹروتھ سوشل کا نیا فیچر: بینکوں اور ٹریڈنگ کمپنیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس پہلے ملیں گی

سعودی ایئرلائن نے پشاور میں نیا دفتر کھول دیا

ویڈیو

سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

چین سے 3گنا زیادہ قیمت پر گیس کی خریداری، اسلام آباد بمقابلہ پنجاب، گندم اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر، مہنگائی ایران جنگ پر نہ ڈالیں

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون