وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھیں، پاکستان کے لیے یہ ایک بڑے اعزاز کی بات تھی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس نازک سفارتی مشن کی کامیابی اور ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی تیاری میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے انتہائی کلیدی اور انتھک کردار ادا کیا ہے۔
انتہائی مشکل اور پیچیدہ سفارتی ٹاسک
دورہ ترکیہ کے دوران ترک ٹیلی ویژن ’ٹی آر ٹی‘کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان قیامِ امن کے لیے بطور ثالث کردار ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ انتہائی مشکل اور پیچیدہ ٹاسک تھا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق اچھی خبر جمعے تک سامنے آسکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے وضاحت کی کہ ’بطور ثالث ایک طرف ہمارے لیے ایران ہمسایہ ملک تھا، جس کے ساتھ ہمارے انتہائی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں، دوسری طرف امریکا کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات ہیں، اس لیے ہمیں دونوں فریقین کے ساتھ بہت ایمانداری، مخلصانہ اور محتاط انداز میں کردار ادا کرنا تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں یہاں انتہائی سمجھ بوجھ کے ساتھ اقدامات اٹھانا تھے‘ اس لیے الخمد اللہ تمام تر مشکلات کے باوجود اب تک پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا سفارتی عمل بہت اچھے انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔
صدر اردوان اور دوست ممالک کا شکریہ
وزیراعظم شہباز شریف نے اس تاریخی امن عمل میں تعاون کرنے پر تمام برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے برادر اور دوست صدر رجب طیب اردوان کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے غیر مشروط طور پر اس امن عمل کو آگے بڑھانے میں زبردست معاونت، مدد اور حمایت کی ہے‘۔
مزید پڑھیں:کیا اسلام آباد ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے؟
انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر معتبر دوست ممالک کے بھرپور تعاون سے ہی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ ممکن ہو سکی اور اسی تناظر میں اب پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں ’برگن اسٹاک‘ (سوئٹزرلینڈ) سے تکنیکی بنیادوں پر بات چیت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ایک سے 2 ماہ میں خطے میں دیرپا قیام امن ممکن ہو جائے گا۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ مذاکرات دیرپا امن کی امید کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سارے عمل میں پاکستان کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا، جو مسلسل امریکی اور ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پوری پوری راتیں جاگ کر اس عمل کو آگے بڑھایا اور آخری لمحات تک امید کا دامن نہیں چھوڑا‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے متحرک کردار کی بھی تعریف کی۔
صدر رجب طیب اردوان کی عالمی بصیرت
ترکیہ اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان انتہائی متحرک اور گہری بصیرت رکھنے والے عالمی رہنما ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وہ پاکستان کے عوام کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی گہری بصیرت صرف ترکیہ اور پاکستان تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری دُنیا بشمول غزہ، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں امن کے خواہاں ہیں اور عالمی امن کے لیے ان کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔












