ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

جمعرات 16 جولائی 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارے بچپن و لڑکپن کا زمانہ بہت ہی اچھا تھا، سائنس نے ابھی کوئی غیر معمولی ترقی نہیں کی تھی، سو ہائی ٹیک کا وجود ابھی عام نہ ہوا تھا۔ اپنے پاکستان میں تو اسکوٹر، گاڑی، ٹرین، جہاز، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر اور ٹیلیفون ہی کل جدت تھی۔ یوں تصاویر کے سپر فیوریٹ پوز بھی یہ ہوتے کہ یا تو لینڈ لائن فون کا ریسور کان سے لگا کر تصویر کھچوا لی، یا پھر محلے میں آئے کسی مہمان کی 82 ماڈل کرولا کے ساتھ کھڑے ہوکر پوز دیدیا۔ ایسے میں جب پہلی بار پاکستان میں شیراڈ آئی تو یہ ایسا ہی تھا جیسے فراری آگئی ہو۔ یوں شیراڈ وہ کار بن گئی، پاکستان میں جس کے ساتھ سب سے زیادہ تصاویر کھچوائی گئیں۔

سب سے برا حال اطلاعات تک رسائی کا تھا۔ پی ٹی وی شام چار بجے نشریات شروع کرتا اور رات 11 بجے جمائی لے کر سوجاتا۔ لے دے کر ایک ریڈیو ہی تھا جو دن بھر بولتا کم سناتا زیادہ۔ یعنی وہ گیت و گانے جن کی فرمائش ہمیشہ احمد پور شرقیہ اور ساہیوال سمیت پنجاب کے چند مزید اضلاع سے ہوتی۔ کراچی، لاہور، پشاور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی شاید گانوں میں کسی کو دلچسپی نہ تھی، یا پھر پروڈیوسرز ان شہروں کی موجودگی سے آگاہ نہ تھے۔ رہ گئے گنتی کے چند اخبارات تو ان سے متعلق نوجوان نسل کا اجماع تھا کہ یہ بھی کلاسیکل گائیکی کی طرح بڑے بوڑھوں کے مطلب کی چیز ہے۔

یوں ہم لڑکوں کو جھوٹ بولنےاور پھیلانے کی سہولت خوب خوب دستیاب تھی، ہم لونڈے کچھ بھی دعویٰ کردیتے، چل جاتا۔ مثلاً یہ کہ ایک بار عمران خان نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر اتنا تیز اور اونچا چھکا مارا کہ گیند 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں جاگری۔ یہ بات سب اس لیے مان جاتے کہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا نام ہم لونڈے نے سن تو رکھا تھا مگر ہم میں سے کوئی بھی یہ نہ جانتا تھا کہ لارڈز اور 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مابین 4 کلومیڑ کا فاصلہ ہے۔

اوپر سے یہ خوش بختی الگ کہ اے آئی چھوڑیے گوگل تک موجود نہ تھا، جہاں سے کوئی چیک شیک کرکے اپن لوگ کو چیلنج کرپاتا۔ گوگل کی ضرورت تو تب پیش آئی جب سائنسدانوں نے دیکھا کہ انسانی تاریخ کی سب سے نکمی نسل کی پیدائش کا وقت ہوگیا، یعنی جین زی۔ یوں گوگل اور اے آئی دراصل جین زی نامی اس مخلوق کے لیے ایجاد کیے گئے جو انٹیلی جنس سے محروم ہے۔ یعنی جس طرح اندھے کے لیے لاٹھی اور اونچا سننے والے کے لیے آلہ سماعت تیار کیا گیا تھا، عین اسی طرح ان ذہنی معذوروں کے لیے گوگل اور اے آئی تیار کیے گئے۔

مگر سائنسدانوں سے ایک چوک یہ ہوگئی کہ ان کا ذہن اس طرف گیا ہی نہیں کہ اے آئی کے استعمال کے لیے بھی تو تھوڑی سی اصلی والی عقل درکار ہے۔ یوں چیز بنی جین زی کے لیے تھی مگر کام ہمارے آرہی ہے۔

ایسا نہیں تھا کہ جھوٹ کے اس ’سنہرے دور‘ یعنی ہمارے لڑکپن کے زمانے میں لمبی صرف ہم لونڈے لپاڑے ہی چھوڑا کرتے تھے۔ دو سینیئر بلکہ الٹرا سینیئر کیٹیگری کے لوگ ہم سے بھی دس ہاتھ آگے تھے۔ ایک تو کلاسیکل گلوکار تھے، جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا:

’ایک بار میں نے ایسا سر لگایا کہ بجھا چراغ روشن ہوگیا‘

دوسرا کہتا

’ایک بار ہم نے راگ میاں کی ملہار سے ایسا سماں باندھا کہ شاہ ایران کے محل کے شیشے ٹوٹ گئے‘

اب شاہ ایران کو قبر سے کون اٹھا کر لائے کہ بتا بھئی کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟ یہ وہ زمانہ تھا جب روحانی کلام والے بھی یہ گاتے تھے

’سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے‘

سو کھڑکیاں کسی کی سنگ باری یا ٹیپ ٹینس بال پر جمائے گئے پل یا ہک شاٹ سے ٹوٹتیں، اور ڈال کلاسیکل گلوکار اسے اپنے راگ کے کھاتے میں دیتے۔ اب وہ زمانہ آ پہنچا ہے کہ یہ شرم کے مارے بھی یہ نہیں گا سکتے۔

’کیمرہ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے‘

سو کھڑکیاں، دروازے، چراغ، ٹیوب لائٹیں، انرجی سیور اور ایل ای ڈی بلب سمیت ہر شے کلاسیکل گلوکار کے راگ سے محفوظ ہے۔

الٹرا سینیئر کیٹیگری میں سے دوسرے مگر لمبی چھوڑنے میں پہلے نمبر پر تھے، خانقاہوں میں بیٹھے پیر اور ان کے مرید، جن کی کرامتوں کی سی سی ٹی وی کیمرے نے آکر ایسی کی تیسی پھیر دی۔ اب کسی پیر کے ہاتھ چھوڑیے، انگلی کے ناخن پر بھی کرامت ظاہر نہیں ہوتی۔ ناظم آباد چھوڑیے ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن میں بیٹھے پیر کی بھی ہمت نہیں کہ کہہ دے۔

’ظہر بیت اللہ میں پڑھ آیا ہوں، عصر کے لیے مسجد اقصیٰ جانے کا موڈ بن رہا ہے‘

ورنہ ہمارے لڑکپن والے دور میں تو یہ پانچ نمازیں پہلے پانچ آسمانوں پر ادا فرماتے۔ تہجد ساتویں آسمان پر اور اشراق چھٹے پر۔ سو آج کل ان سب کا گزارہ صرف خوابوں اور قبر کی خوشبو پر چل رہا ہے، اور خواب بھی وہ جو دیکھتا مرید ہے مگر فٹ پیر صاحب پر کیا جاتا ہے۔ گویا ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ خواب اس کے لیے تعبیر رکھتا ہے جو اسے دیکھتا ہے۔ ہم دس بار بھی خواب میں دیکھ لیں کہ فلاں حضرت اپنی خانقاہ میں راگ درباری گا رہے ہیں، اس سے وہ کبھی بھی نصرت فتح علی خان نہیں بن سکتے۔ دوسری بات یہ کہ خواب میں زبان کا استعمال ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے، 99 فیصد خوابوں میں کلام ہوتا ہی نہیں۔ خواب کی زبان سمبلزم پر مبنی ہوتی ہے۔ اور خواب کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ بھی 7 سیکنڈز کا ہوتا ہے۔ یہ مسکے باز کذاب مریدوں کے خواب تو پوری فلم ہوتے ہیں، ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔

’حضرت جی! احقر نے خواب میں آپ کے یاقوت و مرجان اتنی ایمانداری سے تولے کہ آپ نے خوش ہوکر پوچھا، بتا کیا چاہیے؟ احقر نے عرض کیا، جنت چاہیے حضور۔ تو آپ نے دراز سے جنت کا ایمرٹس ایئرلائن والا ٹکٹ نکال کر احقر کو عطا کیا۔۔۔۔۔۔‘

اس ٹائپ کے ہوتے ہیں ان مردیدوں کے خواب تو بھئی! او دینداری کے ملک ریاضو! خواب کی زبان قولی نہیں علامتی ہوتی ہے۔ مثلاً مرید نے خواب دیکھا کہ پیر صاحب اسے دودھ والا شربت پیش کررہے ہیں تو یہ خواب ہے، لیکن اگر مرید کہتا کہ پیر صاحب انہیں خواب میں دودھ الائچی والے شربت کی ریسیپی سمجھا رہے تھے تو خواب نہیں عکس خیال ہے۔ سارا دن پیر کی ہی مالا جپنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خواب میں بھی وہ جان نہیں چھوڑتا، اور اسی کو ’عکس خیال‘ کہتے ہیں، جس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔

حضور! ہم تو لارڈز والے جھوٹ اس لیے بولا کرتے تھے کہ بچے تھے۔ جب آپس میں بیٹھتے تھے تو گپ شپ میں اپنے اپنے فیوریٹ کھلاڑی کے حق میں مبالغہ آرائی کی ہر حد پار کر جایا کرتے تھے۔ مگر آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ سی سی ٹی وی اور موبائل کیمروں نے آپ کی کرامتوں کا ہمیشہ کے لیے جنازہ نکال دیا تو آپ خواب اور قبر کی خوشبو والا اسکرپٹ لے آئے؟، کیونکہ وہ کیمرہ کی ریچ سے باہر ہے؟ یہ سب بند کیجیے، ورنہ نیشنل جیوگرافک کی ٹیم جھوٹ پکڑنے والی مشین سمیت بھی پاکستان آسکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لنکا پریمیئر لیگ سے قبل بڑا ایکشن، میچ فکسنگ کے شبہے میں بھارتی مالک گرفتار

فیفا ورلڈ کے فاتحین کو پہلی بار امریکی طرز کی انگوٹھیاں دی جائیں گی

تعطیلات خوشی سے غم میں بدل گئیں، ویڈیو کال پر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے نئے امکانات، صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا: چینی سفیر

3 بڑے امریکی ٹی وی چینلز نے ٹرمپ کا خطاب براہِ راست نشر کرنے سے انکار کر دیا

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک