سری لنکا پولیس نے لنکا پریمیئر لیگ (ایل پی ایل) کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے لیگ کی ایک فرنچائز کے بھارتی شریک مالک کو میچ فکسنگ کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بارش کے وقت کھلاڑی ڈریسنگ روم میں کیا کرتے ہیں؟
اسپورٹس انویسٹی گیشن یونٹ کے انسپکٹر سپُن ویداناگے کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت منجوت کلرا کے نام سے ہوئی ہے جو جعفنا ٹیم کے شریک مالک ہیں۔
پولیس کے مطابق منجوت کلرا کو کولمبو کے ایک ہوٹل سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مبینہ طور پر ایک کھلاڑی کو 95 لاکھ سری لنکن روپے (تقریباً 28 ہزار 700 امریکی ڈالر) رشوت دینے والے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق متعلقہ کھلاڑی نے تقریباً 10 روز قبل پہلی مرتبہ رشوت کی پیشکش کیے جانے پر حکام کو آگاہ کر دیا تھا تاہم تفتیشی حکام نے کھلاڑی کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
مزید پڑھیے: پی سی بی نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 2026 کے لیے میڈیا ایکریڈیٹیشن کی شرائط جاری کردیں
لنکا پریمیئر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کا آغاز جمعہ کی شب کولمبو میں جعفنا اور گالے کی ٹیموں کے درمیان میچ سے ہونا تھا جبکہ گرفتار ہونے والے منجوت کلرا جعفنا فرنچائز کے شریک مالک ہیں۔
واضح رہے کہ لنکا پریمیئر لیگ اس سے قبل بھی کرپشن اور میچ فکسنگ کے الزامات کی زد میں آ چکی ہے۔
رواں سال جنوری میں سری لنکا کی ایک عدالت نے دمبولا تھنڈرز ٹیم کے برطانوی مالک بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے تمیم رحمان کو میچ فکسنگ کے مقدمے میں 4 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم یہ سزا 5 سال کے لیے معطل کر دی گئی تھی۔
تمیم رحمان نے ایک کھلاڑی پر اثر انداز ہونے اور سٹے بازی کا انتظام کرنے کی کوشش کا اعتراف بھی کیا تھا۔ عدالت نے انہیں 2 کروڑ 40 لاکھ سری لنکن روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
مزید پڑھیں: کیا باب وولمر آئرلینڈ سے شکست کا صدمہ برداشت نہیں کر پائے؟
یہ فیصلہ سری لنکا میں سنہ 2019 میں نافذ کیے گئے اس سخت قانون کے تحت دیا گیا تھا جس کا مقصد کھیلوں میں کرپشن اور میچ فکسنگ کی روک تھام ہے۔














