برطانیہ میں نوجوانوں کے لیے مڈ نائٹ سوشل میڈیا کرفیو کی تجویز

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی حکومت نے 16 اور 17 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کے مقصد سے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔

ان مجوزہ تجاویز کے تحت رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خودکار پابندی نافذ کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان

تجویز کے مطابق مقررہ اوقات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خودکار طور پر بند ہو جائیں گے، تاہم صارفین اگر چاہیں تو اپنی اکاؤنٹ سیٹنگز تبدیل کرکے اس پابندی کو غیر فعال بھی کر سکیں گے۔

حکومت صرف رات کے اوقات میں پابندی تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ نوجوانوں کے لیے آٹو پلے اور لاتعداد اسکرول جیسے فیچرز کو بھی ڈیفالٹ طور پر بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔

حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں کی نیند، تعلیمی کارکردگی اور خاندانی زندگی پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب بچوں کے تحفظ کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور سماجی کارکنوں نے ان تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں یوٹیوب الگورتھم تبدیل کرنے کی تجویز، آزادیٔ اظہار پر بحث چھڑ گئی

ان کا کہنا ہے کہ چونکہ صارفین ان پابندیوں کو آسانی سے اپنی سیٹنگز کے ذریعے ختم کر سکتے ہیں، اس لیے ان اقدامات کی افادیت محدود رہنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے حکومتی ارادے کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیوں پر غور کر رہی ہے اور 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ایک مؤثر آپشن ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp