برطانوی حکومت نے 16 اور 17 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کے مقصد سے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
ان مجوزہ تجاویز کے تحت رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خودکار پابندی نافذ کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان
تجویز کے مطابق مقررہ اوقات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خودکار طور پر بند ہو جائیں گے، تاہم صارفین اگر چاہیں تو اپنی اکاؤنٹ سیٹنگز تبدیل کرکے اس پابندی کو غیر فعال بھی کر سکیں گے۔
حکومت صرف رات کے اوقات میں پابندی تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ نوجوانوں کے لیے آٹو پلے اور لاتعداد اسکرول جیسے فیچرز کو بھی ڈیفالٹ طور پر بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔
The Government is to propose a midnight social media curfew for 16 and 17-year-olds.
The proposals include the ability to disable features they say encourage addictive use, like auto play and infinite scrolling.
However the curfew won't be mandatory – and teenagers will be… pic.twitter.com/JO0M6asOwd
— Channel 4 News (@Channel4News) July 15, 2026
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں کی نیند، تعلیمی کارکردگی اور خاندانی زندگی پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب بچوں کے تحفظ کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور سماجی کارکنوں نے ان تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں یوٹیوب الگورتھم تبدیل کرنے کی تجویز، آزادیٔ اظہار پر بحث چھڑ گئی
ان کا کہنا ہے کہ چونکہ صارفین ان پابندیوں کو آسانی سے اپنی سیٹنگز کے ذریعے ختم کر سکتے ہیں، اس لیے ان اقدامات کی افادیت محدود رہنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے حکومتی ارادے کا اظہار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیوں پر غور کر رہی ہے اور 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ایک مؤثر آپشن ہو سکتی ہے۔














