پاکستان کے کپتان بابر اعظم کی انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں واپسی کے امکانات روشن ہوگئے، قومی ٹیم کے بولنگ کوچ عمر گل نے ان کی پریکٹس اور فٹنس کے حوالے سے اہم پیشرفت بتا دی۔
عمر گل نے لارڈز میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بابر اعظم نے مکمل بیٹنگ سیشن میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے فاسٹ بولرز اور اسپنرز کا سامنا کرنے کے ساتھ تھرو ڈاؤنز پر بھی پریکٹس کی۔
یہ بھی پڑھیں: لارڈز ٹیسٹ: پاکستان ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان، کپتان بابراعظم کی واپسی متوقع
قومی بولنگ کوچ کے مطابق بابر اعظم نیٹ میں تینوں طرح کی پریکٹس سے گزرے اور بیٹنگ کے دوران بہتر نظر آئے۔ عمر گل نے کہا کہ ٹیم کو امید ہے کہ بابر اعظم لارڈز ٹیسٹ کے لیے دستیاب ہوں گے۔
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کی جانب سے بھی بابر اعظم کی انڈور نیٹس میں بیٹنگ کی ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں وہ پاکستانی کوچنگ اسٹاف کے ایک رکن کے ساتھ بیٹنگ کی مشق کرتے دکھائی دیے۔
پہلے ٹیسٹ میں بابر اعظم کیوں نہیں کھیلے؟
بابر اعظم ہاتھ کی انجری کے باعث انگلینڈ کے خلاف لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔
انہیں رواں ماہ بیکنہم میں انگلینڈ کے خلاف پریکٹس میچ کے دوران انگلی پر گیند لگنے سے چوٹ لگی تھی۔ اس وقت وہ پاکستان کی پہلی اننگز میں 17 گیندوں پر 5 رنز بنا کر طبی امداد کے لیے میدان سے باہر چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کی نئی رینکنگ: بابراعظم اور محمد عباس کی ترقی، رضوان سمیت کئی کھلاڑی تنزلی کا شکار
یہ ایک ماہ کے دوران بابر اعظم کے ہاتھ پر دوسری چوٹ تھی، اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران بھی انہیں ہاتھ پر گیند لگی تھی۔ احتیاطی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی طبی ٹیم نے انہیں پریکٹس میچ کے بقیہ حصے میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
پاکستان کو بابراعظم کی واپسی کی ضرورت
پاکستان کو لیڈز ٹیسٹ میں بیٹنگ کے شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انگلینڈ نے اسے ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی۔ انگلینڈ کو تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہے۔
ایسے میں بابر اعظم کی واپسی پاکستان کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے۔ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف گزشتہ ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز تھے، جہاں انہوں نے مجموعی طور پر 193 رنز بنائے اور دو نصف سنچریاں اسکور کیں۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ 27 اگست سے لارڈز میں شروع ہوگا۔ پاکستان کے لیے سیریز میں واپسی کے لیے یہ میچ انتہائی اہم ہے۔














