برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شام کے بے گھر خاندان ٹک ٹاک پر لائیو نشریات کے ذریعے مالی مدد کی اپیل کرتے رہے، مگر ناظرین کی جانب سے بھیجے گئے عطیات کا بڑا حصہ ٹک ٹاک اور اس سے وابستہ نظام کے پاس چلا جاتا تھا، جبکہ ضرورت مند خاندانوں کو انتہائی معمولی رقم ملتی تھی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بی بی سی کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ شمال مغربی شام کے مہاجر کیمپوں میں رہنے والے سینکڑوں خاندان روزانہ کئی کئی گھنٹے ٹک ٹاک پر لائیو آ کر مالی امداد کی اپیل کرتے تھے۔ ان نشریات میں بچے بھی شامل ہوتے تھے، جو ناظرین سے بار بار ’پلیز لائک، پلیز شیئر، پلیز گفٹ‘ کہہ کر ڈیجیٹل تحائف بھیجنے کی درخواست کرتے تھے۔ بعض لائیو نشریات میں ایک گھنٹے کے دوران ایک ہزار ڈالر تک کے تحائف موصول ہوتے تھے، مگر ان خاندانوں کو اس رقم کا صرف ایک معمولی حصہ ملتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:کیمرے کے سامنے طلاق دینے کی ویڈیو وائرل، معروف ٹک ٹاکر پر سابق اہلیہ کے سنگین الزامات
تحقیق کے مطابق اس پورے نظام میں مقامی ’ٹک ٹاک مڈل مین‘ اہم کردار ادا کرتے تھے، جو مہاجر خاندانوں کو موبائل فون، انٹرنیٹ اور ٹک ٹاک اکاؤنٹس فراہم کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چین اور مشرق وسطیٰ میں موجود ٹک ٹاک سے وابستہ ایجنسیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، جو نئے لائیو اسٹریمرز کو پلیٹ فارم پر لانے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ برطانوی سم کارڈ استعمال کیے جاتے تھے کیونکہ برطانیہ کے صارفین زیادہ فراخ دل سمجھے جاتے ہیں۔
بی بی سی نے 5 ماہ تک 30 ٹک ٹاک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا اور ایک تجربہ بھی کیا۔ لندن سے 106 ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل تحائف ایک آزمائشی اکاؤنٹ کو بھیجے گئے، مگر لائیو نشریات ختم ہونے پر اس اکاؤنٹ میں صرف 33 ڈالر باقی تھے، یعنی تقریباً 69 فیصد رقم کٹ چکی تھی۔ بعد ازاں مقامی منی ٹرانسفر فیس اور مڈل مین کا حصہ نکالنے کے بعد مہاجر خاندان کے پاس صرف 19 ڈالر بچے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے خاندان انتہائی غربت اور بے بسی کے باعث اس طریقۂ کار پر انحصار کرنے پر مجبور تھے۔ مثال کے طور پر ایک خاتون، مونا علی الکریم، اپنے شوہر کی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد اپنی نابینا بیٹی کے علاج کے لیے روزانہ لائیو آ کر مدد مانگتی تھیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے بعد ٹک ٹاک نے کہا کہ پلیٹ فارم پر استیصالی انداز میں بھیک مانگنے کی اجازت نہیں ہے اور ایسے مواد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل تحائف پر اس کا کمیشن 70 فیصد سے کم ہے، تاہم اس نے درست شرح بتانے سے گریز کیا۔ بی بی سی کی نشاندہی کے بعد کمپنی نے ان تمام اکاؤنٹس کو بند کر دیا، جبکہ مقامی فلاحی اداروں نے متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور بچوں کی تعلیم میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔














