کیا ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کو دفتری اوقات کے بعد بھی مصنوعی ذہانت سیکھنی چاہیے؟

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیزی سے بدلتی دنیا میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کئی افراد اب صرف دفتری اوقات میں ہی نہیں بلکہ اپنے فارغ وقت میں بھی نئی اے آئی ٹیکنالوجیز سیکھنے میں مصروف ہیں تاکہ وہ تیزی سے بدلتے رجحانات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف

میٹا میں سافٹ ویئر انجینیئر روہن کلکرنی بھی ایسے ہی پیشہ ور افراد میں شامل ہیں۔ انہوں نے بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ دفتر سے واپسی کے بعد بھی وہ ہر ہفتے تقریباً 4 سے 6 گھنٹے مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی چیزیں سیکھنے میں صرف کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور پرپلیکسیٹی جیسی اے آئی سروسز کی سبسکرپشن پر ماہانہ تقریباً 50 امریکی ڈالر بھی خرچ کرتے ہیں۔

روہن کلکرنی کے مطابق وہ ان متعدد ٹیکنالوجی ماہرین میں شامل ہیں جو اپنی ملازمت کے علاوہ ذاتی وقت میں بھی اے آئی پر کام کرتے ہیں تاکہ نئی مہارتیں حاصل کر سکیں، ذاتی منصوبے (سائیڈ پراجیکٹس) بنا سکیں اور اس تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی میں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ دفتر میں اے آئی کے استعمال سے بعض منصوبوں کی تکمیل کا دورانیہ جو پہلے تقریباً ایک ماہ ہوتا تھا اب کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہفتے رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز خود سیکھنے کی عادت انہیں مصنوعی ذہانت کے دور سے پہلے ہی پڑ چکی تھی جب وہ ذاتی منصوبوں کے ذریعے نئی مہارتیں حاصل کیا کرتے تھے۔

کلکرنی نے کہا کہ ابتدا میں وہ ہر مسئلے کا حل مکمل طور پر اے آئی سے حاصل کرتے تھے اور خود سوچنے کی کوشش نہیں کرتے تھے لیکن اب انہوں نے اپنا طریقہ کار تبدیل کر لیا ہے۔ اب وہ پہلے خود مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں پھر مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے جواب کی تصدیق یا بہتری کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے

ان کے مطابق اے آئی سیکھنے کے لیے اضافی وقت نکالنے سے ان کی زندگی کے کسی اہم پہلو پر منفی اثر نہیں پڑا بلکہ انہوں نے غیر ضروری طور پر یوٹیوب شارٹس دیکھنے اور وقت ضائع کرنے والی دیگر سرگرمیوں میں کمی کر دی ہے۔

روہن کلکرنی کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں صرف عملی کام کرنے والے فرد کے بجائے ایک منصوبہ ساز (آرکیٹیکٹ) کی طرح سوچنا ضروری ہو گیا ہے تاہم اسی طرزِ فکر کی وجہ سے کئی ٹیکنالوجی ماہرین خود کو ذہنی تھکن یا اے آئی فیٹیگ کا شکار بھی محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ہر نئی ٹیکنالوجی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے پہلے سے موجود علم کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں اور ایسی ٹیکنالوجی پر توجہ دیتے ہیں جو حقیقی زندگی میں لوگوں کے مسائل حل کر سکے۔

مزید پڑھیں: اے آئی کمالات: ایمیزون و دیگر بارانی جنگلات اب جائے بغیر بھی دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں

ان کے مطابق پیشہ ورانہ تعلقات میں بھی کامیابی صرف مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیکھنے کے شوق اور تجسس کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اور یہی رویہ طویل مدت میں بہتر نتائج دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے شاہ غلام قادر کی ملاقات، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ

مچل اسٹارک کا نیا ریکارڈ، بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین بولر بن گئے

روس اور ایران کے خطرات کے پیشِ نظر جرمنی کا خفیہ اداروں کو مزید طاقت دینے کا فیصلہ

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

‘’میرا پاکستان’ آپ کے نزدیک کس احساس کا نام ہے؟’

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا